تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 59
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹ سورة المائدة عذاب کی جگہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس یوم آخر پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔پس جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود لفظ اللہ اور یوم آخر کے تصریح ایسے معنی کر دیئے جو اسلام سے مخصوص ہیں تو جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور یوم آخر پر ایمان لائے گا۔اُس کے لئے یہ لازمی امر ہوگا کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے اور کسی کا اختیار نہیں ہے کہ ان معنوں کو بدل ڈالے اور ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنی ایجاد کریں کہ جو قرآن شریف کے بیان کردہ معنوں سے مغائر اور مخالف ہوں۔ہم نے اول سے آخر تک قرآن شریف کو غور سے دیکھا ہے اور توجہ سے دیکھا اور بار بار دیکھا اور اس کے معانی میں خوب تدبر کیا ہے ہمیں بدیہی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ قرآن شریف میں جس قدر صفات اور افعال الہیہ کا ذکر ہے ان سب صفات کا موصوف اسم اللہ ٹھہرایا گیا ہے مثلاً کہا گیا ہے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ) ( الفاتحة :۲، ۳)۔ایسا ہی اس قسم کی اور بہت سی آیات ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے قرآن اتارا۔اللہ وہ ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔پس جبکہ قرآنی اصطلاح میں اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان لاوے تبھی اُس کا ایمان معتبر اور صحیح سمجھا جائے گا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ من أمن بالرحمن يامن أمن بالرحيم يا من أمن بالكريم بلکہ یہ فرما یا کہ من آمن باللہ اور اللہ سے مراد وہ ذات ہے جو مجمع جمیع صفات کا ملہ ہے اور ایک عظیم الشان صفت اُس کی یہ ہے کہ اُس نے قرآن شریف کو اُتارا۔اس صورت میں ہم صرف ایسے شخص کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لا یا جبکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا ہو اور قرآن شریف پر بھی ایمان لایا ہو۔اگر کوئی کہے کہ پھر ان الذین امنوا کے کیا معنی ہوئے تو یا در ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جو لوگ محض خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اُن کا ایمان معتبر نہیں ہے۔جب تک خدا کے رسول پر ایمان نہ لاویں یا جب تک اُس ایمان کو کامل نہ کریں۔اس بات کو یا درکھنا چاہئیے کہ قرآن شریف میں اختلاف نہیں ہے۔پس یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ صد ہا آیتوں میں تو خدا تعالیٰ یہ فرما دے کہ صرف توحید کافی نہیں ہے بلکہ اُس کے نبی پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری ہے بجز اس صورت کے کہ کوئی اس نبی سے بیخبر رہا ہو اور پھر کسی ایک