تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 58

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸ سورة المائدة کو شریک نہ کریں یہ تمام نا جائز کام ایسی دلی رغبت سے کرتے تھے کہ گویا ان برے کاموں کو انہوں نے اپنا مذہب قرار دے دیا تھا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۹) اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصُّبِحُونَ وَالنَّصْرِى مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ امر جو عبد الحکیم خان کی ضلالت کا باعث ہوا ہے جس کی وجہ سے اُس کو یہ خیال گزرا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ضرورت نہیں وہ قرآن شریف کی ایک آیت کی غلط فہمی ہے جو باعث کمی علم اور کمی تدبیر کے اُس سے ظہور میں آئی اور وہ آیت یہ ہے : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرِى وَالبِيْنَ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ ربهم " وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : (۶۳) ( ترجمہ ) یعنی جو لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور جولوگ یہود و نصاری اور ستارہ پرست ہیں جو شخص اُن میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور اعمال صالحہ بجالائے گا خدا اُس کو ضائع نہیں کرے گا اور ایسے لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اُن کو کچھ خوف نہیں ہوگا اور نہ نظم۔یہ آیت ہے جس سے بباعث نادانی اور کج فہمی یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں۔نہایت افسوس کا مقام ہے کہ یہ لوگ اپنے نفس اتارہ کے پیرو ہو کر محکمات اور بینات قرآنی کی مخالفت کرتے ہیں اور اسلام سے خارج ہونے کے لئے متشابہات کی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔اُن کو یادر ہے کہ اس آیت سے وہ کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور آخرت پر ایمان لانا اس بات کو مستلزم پڑا ہوا ہے کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا جائے۔وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اللہ کے نام کی قرآن شریف میں یہ تعریف کی ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو رب العالمین اور رحمن اور رحیم ہے جس نے زمین اور آسمان کو چھے دن میں بنایا اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے اور یوم آخر قرآن شریف کی رُو سے یہ ہے جس میں مردے جی اُٹھیں گے اور پھر ایک فریق بہشت میں داخل کیا جائے گا جو جسمانی اور روحانی نعمت کی جگہ ہے اور ایک فریق دوزخ میں داخل کیا جاوے گا جو روحانی اور جسمانی