تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 57

۵۷ سورة المائدة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر زمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہو گا۔البدر جلد ۴ نمبر ۳۱ مورخه ۱۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲) اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا ہے : وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا حالانکہ لوگوں نے طرح طرح کے دکھ دیئے، وطن سے نکالا ، دانت شہید کیا، انگلی کو زخمی کیا اور کئی زخم تلوار کے پیشانی پر لگائے سو در حقیقت اس پیشگوئی میں بھی اعتراض کا محل نہیں کیونکہ کفار کے حملوں کی علت غائی اور اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی کرنا یا دانت کا شہید کرنا نہ تھا بلکہ قتل کرنا مقصود بالذات تھا سو کفار کے اصل ارادے سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خدا نے محفوظ رکھا۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۱ حاشیه ) لکھا ہے کہ اول مرتبہ میں جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابی کو برعایت ظاہرا اپنی جان کی حفاظت کے لیے ہمراہ رکھا کرتے تھے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی : وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ یعنی خدا تجھ کولوگوں سے بچائے گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو رخصت کرد یا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔الحکم جلد ۳ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ /اگست ۱۸۹۹ صفحه ۲) قُلْ يَاهْلَ الْكِتُبِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْرِيةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ اِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَ ، كفْرًاً فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (٢٩) اے پیغمبر! تو یہود اور نصاریٰ کو کہہ دے کہ جب تک تم توریت اور انجیل کے احکام پر نہ چلو اور ایسا ہی ان دوسری تمام کتابوں پر قائم نہ ہو جاؤ جو خدا کی طرف تمہیں دی گئی ہیں تب تک تمہارا کچھ بھی مذہب نہیں محض لا مذہب ہو کر اپنے نفسوں کی پیروی کر رہے ہو۔پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عرب کے یہود اور عیسائی ایسے بگڑ گئے تھے اور اس درجہ پر وہ بد چلن ہو گئے تھے کہ جو کچھ خدا نے ان کی کتابوں میں حرام کیا تھا یعنی یہ کہ چوری نہ کریں، لوگوں کا ناحق مال نہ کھاویں، ناحق کا خون نہ کریں، جھوٹی گواہی نہ دیں، خدا کے ساتھ کسی