تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 38

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸ سورة المائدة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوفرمایا : قُلْ يُعِبَادِی ) الزمر : ۵۴) ۔ جس کے معنے ہیں کہ اے میرے بندو! اب ظاہر ہے کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے بندے تھے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے اس فقرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ کا اطلاق استعارہ کے رنگ میں کہاں تک وسیع ہے۔ البدر جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۷ ء صفحہ (۳) يَاهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ایک ایسی ظلمانی حالت پر زمانہ آچکا تھا کہ جو آفتاب صداقت کے ظاہر ہونے کے متقاضی تھے اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنے رسول کا بار بار یہی کام بیان کیا ہے کہ اس نے زمانہ کو سخت ظلمت میں پایا اور پھر ظلمت سے ان کو باہر نکالا۔ ( براہین احمد یہ چہار خصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۴۷ ) نذیر کا لفظ اسی مرسل کے لیے خدا تعالیٰ استعمال کرتا ہے جس کی تائید میں یہ مقدر ہوتا ہے کہ اس کے عذاب نازل ہوگا کیونکہ نذیر ڈرانے والے کو کہتے ہیں اور وہی نبی ڈرانے والا کہلاتا ہے جس کے وقت میں کوئی عذاب نازل ہونا مقدر ہوتا ہے۔ پس آج سے چھبیس ۲۶ برس پہلے جو براہینِ احمدیہ میں منکروں پر میرا نام نذیر رکھا گیا اس میں صاف اشارہ تھا کہ میرے وقت میں عذاب نازل ہوگا۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۶) قَالُوا يَمُوسَى إِنَّا لَنْ تَدْخُلَهَا اَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ ۔ توریت میں جا بجا حضرت موسیٰ کے صحابہ کا نام ایک سرکش اور سخت دل اور مرتکب معاصی اور مفسد قوم لکھا ہے جن کی نافرمانیوں کی نسبت قرآن شریف میں بھی یہ بیان ہے کہ ایک لڑائی کے موقع کے وقت میں