تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 36
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶ سورة المائدة کتاب ہے خدا اس نور سے ان لوگوں کو راہ دکھلاتا ہے کہ جو اس کی خوشنودی کے خواہاں ہیں سو ان کو خدا ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۴۹،۶۴۸) اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنادیتا ہے۔اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔اسی لئے اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور رکھا ہے جیسا کہ فرماتا ہے : قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُور - یعنی تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۷۲) قرآن کے ذریعہ سے سلامتی کی راہوں کی ہدایت ملتی ہے اور لوگ ظلمت سے نور کی طرف نکالے جاتے ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۳۰ حاشیه ) ہیں۔وَ قَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصْرِى نَحْنُ ابْنَوا اللَّهِ وَاحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ b بِذُنُوبِكُم بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ ، يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَ لِلهِ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ خدا تعالیٰ نے یہودیوں کا ایک قول بطور حکایت عن الیہود قرآن شریف میں ذکر فرمایا ہے اور وہ قول یہ ہے کہ: نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَاحِباؤُه یعنی ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔اس جگہ ابناء کے لفظ کا خدا تعالیٰ نے کچھ رد نہیں کیا کہ تم کفر بکتے ہو بلکہ یہ فرمایا کہ اگر تم خدا کے پیارے ہو تو پھر وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے؟ اور ابناء کا دوبارہ ذکر بھی نہیں کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ یہودیوں کی کتابوں میں خدا کے پیاروں کو بیٹا کر کے بھی پکارتے تھے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۷) جب انسان خدا کی طرف بکلی آجاتا ہے اور نفس کی طرف کو بکلی چھوڑ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا دوست ہو جاتا ہے تو کیا وہ پھر دوست کو دوزخ میں ڈال دے گا ؟ نَحْنُ اَوْلِيَاء اللہ سے ظاہر ہے کہ احباء کو دوزخ میں نہیں ڈالتے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه ۲۹ / اکتوبر و ۸ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۲۲) خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اپنے اولیاء کو بھی عذاب نہیں کرتے بلکہ اس دلیل سے یہود و نصاری کے دعوے کی تردید کرتا ہے ان دونوں نے دعوی کیا تھا کہ : قَالَتِ الْيَهُودُ وَ النَّصْرِى نَحْنُ ابْنُوا اللَّهِ وَ