تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 35

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵ سورة المائدة کفر کا تخم قیامت تک قائم رہنے کیلئے یہ آیات صریحۃ الدلالت ہیں جو پہلے پرچہ میں لکھ چکا ہوں یعنی وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( ال عمران : ۵۶) اور آیت : أَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ - الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۹۳) وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ( المائدة : (۶۵) - جس کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاری میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔ جب یہودی نہ رہے اور سب ایمان لے آئے تو پھر بغض اور دشمنی کے لئے کون موقعہ اور محل رہا اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاغْرَينا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ۔ اس کے بھی یہی معنے ہیں جو او پر گزر چکے اور وہی اعتراض ہے (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۹) جو اوپر بیان ہو چکا۔ یعنی قیامت تک عیسائیوں کا وجود پایا جاتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه (۲) يَاهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللهِ نُورٌ وَ كِتَبٌ مُّبِينٌ) وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی نو ر جمع تھے سوان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔۔۔۔۔۔۔ انبیاء منجملہ سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے ہیں ۔ اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے : قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللهِ نُورٌ وَ كِتَبٌ مُّبِينٌ - الجزو نمبر ٢ - وَدَاعِيًّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا ( الاحزاب : ۴۷) ۔ الجزو نمبر ۲۲ ۔ یہی حکمت ہے کہ نو روحی جس کے لئے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔ (براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۹۵ ، ۱۹۶ حاشیہ نمبر ۱۱) ظلمانی زمانہ کے تدارک کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے نور آتا ہے وہ نور اس کا رسول اور اس کی