تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 29

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ سورة المائدة صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے سو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں ؟ ایک عفت اور پرہیز گاری، دوسری حفظ صحت، تیسری اولاد۔آریه دهرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲) واضح ہو کہ احسان کا لفظ حصن سے مشتق ہے اور حصن قلعہ کو کہتے ہیں اور نکاح کرنے کا نام احسان اس واسطے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے انسان عفت کے قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے اور بدکاری اور بدنظری سے بچ سکتا ہے اور نیز اولا د ہو کر خاندان بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور جسم بھی بے اعتدالی سے بچا رہتا ہے پس گویا نکاح ہر ایک پہلو سے قلعہ کا حکم رکھتا ہے۔آرمید دهرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲ حاشیه ) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُتُمُ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعبينِ وَإِنْ كُنْتُم جُنْبًا فَا ظَهَرُوا وَإِن كُنتُم مَّرْضَى اَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ اَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَابِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيْبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ مَا يُرِيدُ اللهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَ لكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ) نماز کا پڑھنا اور وضو کا کرنا طبی فوائد بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔اطبا کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہر روز منہ نہ دھوئے تو آنکھ آجاتی ہے اور یہ نزول الماء کا مقدمہ ہے اور بہت سی بیماریاں اس سے پیدا ہوتی ہیں پھر بتلاؤ کہ وضو کرتے ہوئے کیوں موت آتی ہے؟ بظاہر کیسی عمدہ بات ہے منہ میں پانی ڈال کر کلی کرنا ہوتا ہے، مسواک کرنے سے منہ کی بدبو دور ہوتی ہے، دانت مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں کی مضبوطی غذا کے عمدہ طور پر چہانے اور جلد ہضم ہو جانے کا باعث ہوتی ہے پھر ناک صاف کرنا ہوتا ہے ناک میں کوئی بد بوداخل ہو تو دماغ کو پراگندہ کر دیتی ہے۔اب بتلاؤ! اس میں برائی کیا ہے؟ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی حاجات لے جاتا ہے اور اس کو اپنے مطالب عرض کرنے کا موقع ملتا ہے۔دعا کرنے کے لیے فرصت ہوتی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۲) الله وَإِن كُنتُم مَّرْضَى۔۔۔۔۔۔فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طيبا یعنی اگر تم مریض ہو یا سفر پر یا پاخانہ سے آؤیا