تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 29
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ سورة المائدة صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے سوقرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں ؟ ایک عفت اور پرہیز گاری ، دوسری حفظ صحت ، تیسری اولاد۔ ( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲) واضح ہو کہ احسان کا لفظ حصن سے مشتق ہے اور حصن قلعہ کو کہتے ہیں اور نکاح کرنے کا نام احسان اس واسطے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے انسان عفت کے قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے اور بدکاری اور بدنظری سے بچ سکتا ہے اور نیز اولاد ہو کر خاندان بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور جسم بھی بے اعتدالی سے بچارہتا ہے پس گویا نکاح ہر ایک پہلو سے قلعہ کا حکم رکھتا ہے۔ ( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲ حاشیه ) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمُ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَا طَهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُم مَّرْضَى أَوْ أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ احَدٌ مِنْكُم مِّنَ الْغَابِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَ لكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۔ نماز کا پڑھنا اور وضو کا کر ناطبی فوائد بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ اطبا کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہر روز منہ نہ دھوئے تو آنکھ آجاتی ہے اور یہ نزول الماء کا یہ نزول الماء کا مقدمہ ہے اور بہت سی بیماریاں اس سے پیدا : پیدا ہوتی ہیں پھر بتلاؤ کہ وضو کرتے ہوئے کیوں موت آتی ہے؟ بظاہر کیسی عمدہ بات ہے منہ میں پانی ڈال کر کلی کرنا ہوتا ہے، مسواک کرنے سے منہ کی بد بو دور ہوتی ہے، دانت مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں کی مضبوطی غذا کے عمدہ طور پر چبانے اور جلد ہضم ہو جانے کا باعث ہوتی ہے پھر ناک صاف کرنا ہوتا ۔ اعث ہوتی ہے پھر ناک صاف کرنا ہوتا ہے ناک میں کوئی بد بو داخل ہو تو دماغ کو پراگندہ کر دیتی ہے۔ اب بتلاؤ! اس میں برائی کیا ہے؟ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی حاجات لے جاتا ہے اور اس کو اپنے مطالب عرض کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دعا کرنے کے لیے فرصت ہوتی ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۲) وَ إِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى ۔۔۔۔۔۔ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا یعنی اگر تم مریض ہو یا سفر پر یا پاخانہ سے آؤ یا