تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 28
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸ سورة المائدة لوگوں میں ولایت میں ہے تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسری اشیائے خوردنی جو کہ یہ لوگ طیار کر کے ارسال کرتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حصہ اس کا نہ ہوتا ہو۔۔۔۔۔ہمارے نزدیک نصاری کا وہ طعام حلال ہے جس میں شبہ نہ ہو اور از روئے قرآن مجید کے وہ حرام نہ ہو ورنہ اس کے یہی معنے ہوں گے کہ بعض اشیاء کو حرام جان کر گھر میں تو نہ کھایا مگر باہر نصاری کے ہاتھ سے کھا لیا اور نصاری پر ہی کیا منحصر ہے اگر ایک مسلمان بھی مشکوک الحال ہو تو اس کا کھانا بھی نہیں کھا سکتے مثلاً ایک مسلمان دیوانہ ہے اور اسے حرام وحلال کی خبر نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے طعام یا طیار کردہ چیزوں پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟ اسی لیے ہم گھر میں ولایتی بسکٹ نہیں استعمال کرنے دیتے بلکہ ہندوستان کی ہندو کمپنی کے منگوایا کرتے ہیں۔عیسائیوں کی نسبت ہندوؤں کی حالت اضطراری ہے کیونکہ یہ کثرت سے ہم لوگوں میں مل جل گئے ہیں اور ہر جگہ انہیں کی دوکانیں ہوتی ہیں اگر مسلمانوں کی دوکانیں موجود ہوں اور سب شے وہاں ہی سے مل جاوے تو پھر البتہ ان سے خوردنی اشیاء نہ خریدنی چاہئیں۔علاوہ ازیں میرے نزدیک اہل کتاب سے غالباً مراد یہودی ہی ہیں کیونکہ وہ کثرت سے اس وقت عرب میں آباد تھے اور قرآن شریف میں بار بار خطاب بھی انہیں کو ہے اور صرف تو ریت ہی کتاب اس وقت تھی جو کہ حلت اور حرمت کے مسئلے بیان کر سکتی تھی اور یہود کا اس پر اس امر میں جیسے عمل درآمد اس وقت تھا ویسے ہی اب بھی ہے انجیل کوئی کتاب نہیں ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶ ؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۳) وَ الْمُحْصَنَتُ مِنَ الْمُؤْمِنَتِ۔۔۔۔۔وَلَا مُتَّخِذِى اَخْدَانٍ ) پاک دامن عورتیں تم میں سے یا پہلے اہل کتاب میں سے تمہارے لیے حلال ہیں کہ ان سے شادی کرو لیکن جب مہر قرار پا کر نکاح ہو جائے ، بد کاری جائز نہیں اور نہ چھپا ہوا یا رانہ۔عرب کے جاہلوں میں جس شخص کے اولاد نہ ہوتی تھی بعض میں یہ رسم تھی کہ ان کی بیوی اولاد کے لیے دوسرے سے آشنائی کرتی۔قرآن شریف نے اس صورت کو حرام کر دیا۔مسافت اسی بد رسم کا نام ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶) قرآن نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ پرہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو اور اولاد صالح طلب کرنے کے لیے دعا کرو جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے : مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ الجز و نمبر ۵ یعنی چاہیے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقویٰ اور پر ہیز گاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ حیوانات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو اور تحصنین کے لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتا وہ نہ