تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 27

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ سورة المائدة يَسْتَلُونَكَ مَا ذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أَحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَيْكُمُ اللهُ فَكُلُوا مِمَّا اَمْسَكُنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۔ اگر یہ لوگ پوچھیں کہ پھر کھائیں کیا تو جواب یہ دے کہ دنیا کی تمام پاک چیزیں کھاؤ صرف مردار اور مردار کے مشابہ اور پلید چیزیں مت کھاؤ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶) اصل اشیاء میں حلت ہے، حرمت جب تک نص قطعی سے ثابت نہ ہو تب تک نہیں ہوتی ۔ البدر جلد ا نمبر ۳ مورخه ۱۴ رنومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۹) الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمُ حِلٌّ لَهُمْ وَالْمُحْصَنْتُ مِنَ الْمُؤْمِنَتِ وَالْمُحْصَنْتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِى أَخْدَانٍ وَمَنْ يَكْفُرُ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ ( طَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَكُمْ ) تمدن کے طور پر ہندوؤں کی چیز بھی کھا لیتے ہیں اسی طرح عیسائیوں کا کھانا بھی درست ہے مگر با ایں ہمہ یہ خیال ضروری ہے کہ برتن پاک ہوں کوئی نا پاک چیز نہ ہو۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۲ مورخه ۱۷ رجون ۱۹۰۱ء صفحه ۴) چونکہ نصاری اس وقت ایک ایسی قوم ہو گئی ہے جس نے دین کی حدود اور اس کے حلال و حرام کی کوئی پروا نہیں رکھی اور کثرت سے سور کا گوشت ان میں استعمال ہوتا ہے اور جو ذبح کرتے ہیں اس پر بھی خدا کا نام ہرگز نہیں لیتے بلکہ جھٹکے کی طرح جانوروں کے سر جیسا کہ سنا گیا ہے علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس لیے شبہ پڑ سکتا ہے کہ بسکٹ اور دودھ وغیرہ جو ان کے کارخانوں کے بنے ہوئے ہوں ان میں سور کی چربی اور سور کے دودھ کی آمیزش ہو اس لیے ہمارے نزدیک ولایتی بسکٹ اور اس قسم کے دودھ اور شور بے وغیرہ استعمال کرنے بالکل خلاف تقویٰ اور ناجائز ہیں ۔ جس حالت میں کہ سور کے پالنے اور کھانے کا عام رواج ان