تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 21
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱ سورة المائدة آپ کی صدق نبوت پر آپ کی زندگی سب سے بڑا نشان ہے، کوئی ہے جو اس پر نظر کرے! آپ کو دنیا میں ایسے وقت پر بھیجا کہ دنیا میں تاریکی چھائی ہوئی تھی اور اس وقت تک زندہ رکھا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعمتی کی آواز آپ کو نہ آگئی اور فوجوں کی فوجیں اسلام میں داخل ہوتی ہوئیں آپ نے نہ دیکھ لیں۔غرض اسی قسم کی بہت سی وجوہ ہیں جن سے آپ کا نام محمد رکھا گیا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲ مورخه ۱۷/جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۳، ۴) میں ان مخالفوں سے جو بڑے بڑے مشائخ اور گدی نشین اور صاحب سلسلہ ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ورد و وظائف اور چلہ کشیاں، اُلٹے سیدھے لٹکنا بھول گئے تھے اگر معرفت اور حقیقت شناسی کا یہی ذریعہ اصل تھے۔مجھے بہت ہی تعجب آتا ہے کہ ایک طرف قرآن شریف میں یہ پڑھتے ہیں: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی اور دوسری طرف اپنی ایجادوں اور بدعتوں سے اس تکمیل کو توڑ کر ناقص ثابت کرنا چاہتے ہیں۔انتقام جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۲ ، صفحه ۵) جس شخص کو خدا تعالیٰ سے تعلقات قومی اور شدید ہوتے ہیں اور فنافی اللہ کے درجہ پر ہوتا ہے تو اس سے بسا اوقات خارق عادت معجزات صادر ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک قسم کی اقتداری قوت کا نمونہ رکھتے ہیں لوگ اپنی غلط فہمی اور کمزوری سے یہ گمان کر بیٹھتے ہیں کہ شاید یہ خدا ہو۔شہودی حالت میں اکثر اموران کی مرضی کے موافق ہو جاتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعلوں کو خدا تعالیٰ نے اپنا فعل قرار دیا ہے اور اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ اور إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ ( النصر : ۲) کی صدا آپ کو آگئی۔الکام جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۲ صفحه (۸) مباحثہ میں بھی اصول رکھا جاوے کہ قرآن شریف مقدم ہے یہ منوا کر ان سے کہا جاوے کہ تقدم قرآن تو اب مقبولہ فریقین ہے باقی امور اسی سے فیصلہ کر لو۔اگر حدیثوں پر سارا مدار ہے تو قرآن کی کیا ضرورت ہے جو کہتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ - ( البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ / نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۸) اسلام وہ مذہب ہے جس نے اپنے اقبال کے ساتھ تمام مذاہب کو اپنے پیروں میں لے لیا ہوا ہے۔اسلام ایسے ملک سے شروع ہوا جہاں لوگ درندوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور طرح طرح کی بداعمالیوں میں مبتلا تھے ان کو حیوانیت سے انسانیت میں اسلام ہی لایا۔ہر طرف اس کی مخالفت ہوئی لوگوں نے دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا پھر بھی وہ تمام کام پورے ہو کر رہے جو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے