تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 20
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰ سورة المائدة لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ وہ تعلیم کی رو سے ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہے اور کامل تعلیم کے لحاظ سے کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلدا جلد ۲۱ صفحه ۳ تا ۵ ) ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النبین کے بڑے معنے یہی ہیں کہ نبوت کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کیا۔ یہ تو موٹے اور ظاہر معنی ہیں دوسرے یہ معنے ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرختم ہو گیا۔ یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا اور نبوت ختم ہو گئی اس لیے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کا مصداق اسلام ہو گیا۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۸۹۹ صفحه ۹۰۸) حضرت ابو بکر جن کو قرآن شریف کا یہ فہم ملا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت : اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی پڑھی تو حضرت ابوبکر رو پڑے کسی نے پوچھا کہ یہ بڑھا کیوں روتا ہے تو آپ نے کہا کہ مجھے اس آیت سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔ انبیا علیہم السلام بطور حکام کے ہوتے ہیں جیسے بندوبست کا ملازم جب اپنا کام کر چکتا ہے تو وہاں سے چل دیتا ہے اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام جس کام کے واسطے دنیا میں آتے ہیں جب اس کو کر لیتے ہیں تو پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ۔ بس جب : اكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ کی صدا پہنچی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سمجھ لیا کہ یہ آخری صدا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر کا فہم بہت بڑھا ہوا تھا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۱ ء صفحه ۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک اور کامیاب زندگی کی تصویر یہ ہے کہ آپ ایک کام کے لیے آئے اور اسے پورا کر کے اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے جس طرح بند و بست والے پورے کا غذات پانچ برس میں مرتب کر کے آخری رپورٹ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے اس دن سے لے کر جب قُم فَانْذِرُ (المدثر : ۳) کی آواز آئی پھر إِذَا جَاءَ نَصْرُ آیات الله (النصر : ۲) اور الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کے دن تک نظر کریں تو آپ کی لانظیر کامیابی کا پتہ ملتا ہے ان بات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ خاص طور پر مامور تھے ۔۔۔ ہمارے نبی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیسا پکا کام ہے اس وقت سے جب سے کہا کہ میں ایک کام کرنے کے لیے آیا ہوں جب تک یہ نہ سن لیا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ آپ دنیا سے نہ اُٹھے ۔ (الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحہ ۸،۷)