تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 19
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹ سورة المائدة سے دُور ہو کہ اس سے بڑھ کر عقل تجویز نہ کر سکے اور کوئی نقص اور کمی اُس میں دکھلائی نہ دے اور اس کمال میں وہ ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہو یعنی ان خوبیوں میں کوئی مذہب اُس کے برابر نہ ہو۔جیسا کہ یہ دعویٰ لَكُم قرآن شریف نے آپ کیا ہے کہ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ الإسلام دینا یعنی آج میں نے تمہارے لئے اپنا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کیا اور میں نے پسند کیا کہ اسلام تمہارا مذہب ہو۔یعنی وہ حقیقت جو اسلام کے لفظ میں پائی جاتی ہے جس کی تشریح خود خدا تعالیٰ نے اسلام کے لفظ کے بارہ میں بیان کی ہے اس حقیقت پر تم قائم ہو جاؤ۔اس آیت میں صریح یہ بیان ہے کہ قرآن شریف نے ہی کامل تعلیم عطا کی ہے اور قرآن شریف کا ہی ایسا زمانہ تھا جس میں کامل تعلیم عطا کی جاتی۔پس یہ دعوی کامل تعلیم کا جو قرآن شریف نے کیا یہ اُس کا حق تھا اس کے سوا کسی آسمانی کتاب نے ایسا دعوی نہیں کیا جیسا کہ دیکھنے والوں پر ظاہر ہے کہ توریت اور انجیل دونوں اس دعوے سے دست بردار ہیں کیونکہ توریت میں خدا تعالیٰ کا یہ قول موجود ہے کہ میں تمہارے بھائیوں میں سے ایک نبی قائم کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو شخص اس کے کلام کو نہ سنے گا میں اس سے مطالبہ کروں گا۔پس صاف ظاہر ہے کہ اگر آئندہ زمانہ کی ضرورتوں کی رُو سے توریت کا سننا کافی ہوتا تو کچھ ضرورت نہ تھی کہ کوئی اور نبی آتا اور مواخذہ الہیہ سے مخلصی پانا اُس کلام کے سننے پر موقوف ہوتا جو اس پر نازل ہوتا۔ایسا ہی انجیل نے کسی مقام میں دعوی نہیں کیا کہ انجیل کی تعلیم کامل اور جامع ہے بلکہ صاف اور کھلا کھلا اقرار کیا ہے کہ اور بہت سی باتیں قابل بیان تھیں مگر تم برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب فارقلیط آئے گا تو وہ سب کچھ بیان کرے گا۔اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی توریت کو ناقص تسلیم کر کے آنے والے نبی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی ایسا ہی حضرت عیسی نے بھی اپنی تعلیم کا نامکمل ہونا قبول کر کے یہ عذر پیش کر دیا کہ ابھی کامل تعلیم بیان کرنے کا وقت نہیں ہے لیکن جب فارقلیط آئے گا تو وہ کامل تعلیم بیان کر دے گا مگر قرآن شریف نے توریت اور انجیل کی طرح کسی دوسرے کا حوالہ نہیں دیا بلکہ اپنی کامل تعلیم کا تمام دنیا میں اعلان کردیا اور فرمایا وو کہ: اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِینا۔اس سے ظاہر ہے کہ کامل تعلیم کا دعویٰ کرنے والا صرف قرآن شریف ہی ہے اور ہم اپنے موقعہ پر بیان کریں گے کہ جیسا کہ قرآن شریف نے دعوی کیا ہے ویسا ہی اُس نے اس دعوی کو پورا کر کے دکھلا بھی دیا ہے اور اُس نے ایک ایسی کامل تعلیم پیش کی ہے جس کو نہ توریت پیش کر سکی اور نہ انجیل بیان کر سکی۔پس اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے