تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 18

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸ سورة المائدة قرآن شریف نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ انجیل یا توریت سے صلح کرے گا بلکہ ان کتابوں کو محرف مبدل اور ناقص اور نا تمام قرار دیا ہے اور تاج خاص المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کا اپنے لئے رکھا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں انجیل ، توریت قرآن شریف کے مقابل پر کچھ بھی نہیں اور ناقص اور محرف اور مبدل ہیں اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۹) یہ امر ثابت شدہ ہے کہ قرآن شریف نے دین کے کامل کرنے کا حق ادا کر دیا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے : الْيَوْمَ الْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور میں اسلام کو تمہارا دین مقرر کر کے خوش ہوا۔سو قرآن شریف کے بعد کسی کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ جس قدر انسان کی حاجت تھی وہ سب کچھ قرآن شریف بیان کر چکا اب صرف مکالمات الہیہ کا دروازہ کھلا ہے اور وہ بھی خود بخود نہیں بلکہ بچے اور پاک مکالمات جو صریح اور کھلے طور پر نصرت الہی کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور بہت سے امور غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں وہ بعد تزکیہ نفس محض پیروی قرآن شریف اور اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتے ہیں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۰) یہ بات ہر ایک عقلِ سلیم قبول کرلے گی کہ کمال اصلاح کی نوبت کمال فساد کے بعد آتی ہے۔طبیب کا یہ کام نہیں کہ وہ چنگے بھلے لوگوں کو وہ دوائیں دے جو عین بیماری کے غلبہ کے وقت دینی چاہئیں۔اسی لئے قرآن شریف نے پہلے یہ بیان کر دیا کہ: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :۱۲) یعنی تمام دنیا میں فساد پھیل گیا اور ہر ایک قسم کے گناہ اور معاصی کا طوفان برپا ہو گیا اور پھر ہر ایک بد عقیدگی اور بدعملی کے بارے میں مکمل ہدایتیں پیش کر کے فرمایا کہ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ یعنی آج میں نے تمہارا دین کامل مکمل کر دیا مگر کسی پہلے زمانہ میں جس میں ابھی طوفان ضلالت بھی جوش میں نہیں آیا تھا مکمل کتاب کیوں کر انسانوں کو مل سکتی ہے؟ چشمه ، معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۷ ۱۴۸،۱۴) یادر ہے کہ کسی مذہب کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یعنی اس بات کے ثبوت کے لئے کہ وہ مذہب منجانب اللہ ہے دو قسم کی فتح کا اس میں پایا جانا ضروری ہے؟ اول یہ کہ وہ مذہب اپنے عقائد اور اپنی تعلیم اور اپنے احکام کی رُو سے ایسا جامع اور اکمل اور اتم اور نقص