تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 17

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷ سورة المائدة خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جیسا کہ اُس نے حضور نبوی کی مشابہت حضرت آدم سے مکمل کرنے کیلئے تکمیل ہدایت قرآنی کا چھٹا دن مقرر کیا یعنی روز جمعہ۔اور اسی دن یہ آیت نازل ہوئی کہ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعمتی ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے الف سادس یعنی چھٹا ہزار مقرر فرمایا جو حسب تصریح آیات قرآنی بمنزلہ روز ششم ہے۔اب میں دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ تکمیل ہدایت کے دن میں تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں موجود تھے اور وہ روز یعنی جمعہ کا دن جو دنوں میں سے چھٹا دن تھا مسلمانوں کے لئے بڑی خوشی کا دن تھا جب آیت : اليوم المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعمتی نازل ہوئی اور قرآن جو تمام آسمانی کتابوں کا آدم اور جميع معارف صحف سابقہ کا جامع تھا اور مظہر جمیع صفات الہیہ تھا اُس نے آدم کی طرح چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن اپنے وجود باجود کو اتم اور اکمل طور پر ظاہر فرمایا۔یہ تو تکمیل ہدایت کا دن تھا مگر تکمیل اشاعت کا دن اس دن کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ابھی وہ وسائل پیدا نہیں ہوئے تھے جو تمام دنیا کے تعلقات کو باہم ملا دیتے اور بڑی اور بحری سفروں کو مسافروں کے لئے سہل کر دیتے اور دینی کتابوں کی ایک کثیر مقدار قلمبند کرنے کے لئے جو تمام دنیا کے حصہ میں آسکے آلات زود نویسی کے مہیا کر دیتے اور نہ مختلف زبانوں کا علم نوع انسان کو حاصل ہوا تھا اور نہ تمام مذاہب ایک دوسرے کے مقابل پر آشکار طور پر ایک جگہ موجود تھے۔اس لئے وہ حقیقی اشاعت جو اتمام حجت کے ساتھ ہر ایک قوم پر ہو سکتی ہے اور ہر ایک ملک تک پہنچ سکتی ہے نہ اس کا وجود تھا اور نہ معمولی اشاعت کے وسائل موجود تھے۔لہذا تکمیل اشاعت کے لئے ایک اور زمانہ علم الہی نے مقرر فرمایا۔جس میں کامل تبلیغ کے لئے کامل وسائل موجود تھے اور ضرور تھا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہوئی ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہو کیونکہ یہ دونوں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے منصبی کام تھے لیکن سنت اللہ کے لحاظ سے اس قدر خلود آپ کے لئے غیر ممکن تھا کہ آپ اُس آخری زمانہ کو پاتے اور نیز ایسا خلود شرک کے پھیلنے کا ایک ذریعہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خدمت منصبی کو ایک ایسے امتی کے ہاتھ سے پورا کیا کہ جو اپنی خواور روحانیت کے رُو سے گویا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وجود کا ایک ٹکڑا تھا یا یوں کہو کہ وہی تھا اور آسمان پر ظلی طور پر آپ کے نام کا شریک تھا۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۵۹،۲۵۸)