تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 433

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۳۲ سورة الرعد ہے : شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِى اِسراءیل اور پھر فرمایا: گفی بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمٌ الكتب۔۔۔۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے لئے ان کو پیش کرتا ہے تو ہمارا ان سے اجتہاد کرنا کیوں حرام ہو گیا ؟ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۶ صفحه ۵) دیکھو آنحضرت صلعم نے جو صاحب وحی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ بے نشان نہیں تھا۔کافروں نے جب ثبوت مانگا تھا کہ آپ کی وحی کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل کیا ہے؟ تو ان کو جواب دیا گیا تھا : فقل كفى بالله شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الكِتب یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ تو خدا کا رسول نہیں۔ان کو کہہ دے کہ میرے پاس دو گواہیاں ہیں ایک تو اللہ کی کہ اس کے تازہ تازہ نشانات میری تائید میں ہیں اور دوسرے وہ لوگ جن کو کتاب اللہ کا علم دیا گیا ہے وہ بتا سکتے ہیں کہ میں سچا ہوں۔لا احکم جلد ۱۱ نمبر ۴۱ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ء صفحه ۱۲، ۱۳) یا درکھو کہ قول بغیر فعل کے کچھ چیز نہیں اور یہ آیت کہ قُل گلی ہاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَةُ علم الکتب اس میں ایک عجیب نکتہ ہے یعنی اگر خدا میری گواہی دیتا ہے تو مانو ورنہ نہ مانو۔الحکم جلد نمبر ۴۱ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۳)