تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 419
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۸ سورة الرعد یعنے سب چیزوں کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور ان پر غالب ہے۔یہ دلیل بذریعہ شکل اول کے جو بدیہی الانتاج ہے اس طرح پر قائم ہوتی ہے کہ صغریٰ اس کا یہ ہے جو خدا و احد اور قہار ہے اور کبری یہ کہ ہر ایک جو واحد اور قہار ہو وہ تمام موجدات ماسوائے اپنے کا خالق ہے۔نتیجہ یہ ہوا جو خدا تمام مخلوقات کا خالق ہے۔اثبات قضیہ اولی یعنے صغریٰ کا اس طور سے ہے کہ واحد اور قہار ہونا خدائے تعالیٰ کا اصول مسئلہ فریق ثانی بلکہ دنیا کا اُصول ہے۔اور اثبات قضیہ ثانیہ یعنی مفہوم کبری کا اس طرح پر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ باوصف واحد اور قہار ہونے کے وجود ماسوائے اپنے کا خالق نہ ہو بلکہ وجود تمام موجودات کا مثل اس کے قدیم سے چلا آتا ہو تو اس صورت میں وہ واحد اور قہار بھی نہیں ہو سکتا۔واحد اس باعث سے نہیں ہو سکتا کہ وحدانیت کے معنے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ شرکت غیر سے بکلی پاک ہو۔اور جب خدائے تعالی خالق ارواح نہ ہو تو اس سے دو طور کا شرکت لازم آیا۔اول یہ کہ سب ارواح غیر مخلوق ہو کر مثل اس کے قدیم الوجود ہو گئے۔دوم یہ کہ ان کے لئے بھی مثل پروردگار کے ہستی حقیقی ماننی پڑے جو مستفاض عن الغیر نہیں۔پس اسی کا نام شرکت بالغیر ہے۔اور شرک بالغیر ذات باری کا بہ بداہت عقل باطل ہے۔کیونکہ اس سے شریک الباری پیدا ہوتا ہے اور شریک الباری ممتنع اور محال ہے۔پس جو امر مستلزم محال ہو وہ بھی محال ہے اور قہار اس باعث سے نہیں ہوسکتا کہ صفت قہاری کے یہ معنے ہیں کہ دوسروں کو اپنے ماتحت میں کر لینا اور ان پر قابض اور متصرف ہو جانا۔سوغیر مخلوق اور روحوں کو خدا اپنے ماتحت نہیں کر سکتا کیونکہ جو چیزیں اپنی ذات میں قدیم اور غیر مصنوع ہیں وہ بالضرورت اپنی ذات میں واجب الوجود ہیں اس لئے کہ اپنے تحقیق وجود میں دوسرے کسی علت کے محتاج نہیں اور اسی کا نام واجب ہے جس کو فارسی میں خدا یعنے خود آیندہ کہتے ہیں۔پس جب ارواح مثل ذات باری تعالیٰ کے خدا اور واجب الوجود ٹھہرے۔تو ان کا باری تعالیٰ کے ماتحت رہنا عند العقل محال اور ممتنع ہوا۔کیونکہ ایک واجب الوجود دوسرے واجب الوجود کے ماتحت نہیں ہوسکتا اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے۔لیکن حال واقعہ جو مسلم فریقین ہے یہ ہے کہ سب ارواح خدائے تعالیٰ کے ماتحت ہیں کوئی اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں۔پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ سب حادث اور مخلوق ہیں کوئی ان میں سے خدا اور واجب الوجود نہیں اور یہی مطلب تھا۔پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶ تا ۸ ) هَلْ يَسْتَوى الأعلى وَالْبَصِيرُ کیا اندھا اور بینا مساوی ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۲۴)