تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 415

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ سورة الرعد عرش ہے اور یہ ایسا نہاں در نہاں مقام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی چار صفات ظہور پذیر نہ ہوتیں جو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیات میں ہی درج ہیں تو اس کے وجود کا کچھ پتہ نہ لگتا یعنی ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت ، مالک یوم الجزاء ہونا سو یہ چاروں صفات استعارہ کے رنگ میں چار فرشتے خدا کی کلام میں قرار دیئے گئے ہیں جو اس کے عرش کو اٹھارہے ہیں یعنی اس وراء الوراء مقام میں جو خدا ہے اس مخفی مقام سے اس کو دکھلا رہے ہیں ورنہ خدا کی شناخت کے لئے کوئی ذریعہ نہ تھا۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۹ حاشیه ) استعارہ کے طور پر خدا کے صفات کے ظہور کو ثم استوى على العرش سے بیان کیا ہے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے کے بعد صفات الہیہ کا ظہور ہوا۔صفات اس کے ازلی ابدی ہیں مگر جب مخلوق ہو تو خالق کو شناخت کرے اور محتاج ہوں تو رازق کو پہنچا نہیں اسی طرح اس کے علم اور قادر مطلق ہونے کا پتہ لگتا ہے۔ثمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ خدا کی اس تجلی کی طرف اشارہ ہے جو خَلَقَ السّمواتِ وَالْأَرْضَ کے بعد ہوئی۔البدر نمبر ۵ جلد ۲ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸) لَهُ مُعَقِّبْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَه وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالِ لَهُ مُعَقِبتَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ اَمرِ اللهِ۔۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ کی طرف سے چوکیدار مقرر ہیں جو اس کے بندوں کی ہر طرف سے یعنی کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر حفاظت کرتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۹) إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُيهم۔۔۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ارادے کی اس وقت تبدیلی ہوگی جب دلوں کی تبدیلی ہوگی۔پس خدا تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے قہر سے خوف کھاؤ۔کوئی کسی کا ذمہ وار نہیں ہو سکتا۔معمولی مقدمہ کسی پر ہو تو اکثر لوگ وفا نہیں کر سکتے پھر آخرت میں کیا بھروسہ رکھ سکتے ہو۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱ ۴ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۶ صفحه ۵) خدا تعالیٰ اس نیکی یا بدی کو جو کسی قوم کے شامل حال ہے دور نہیں کرتا جب تک وہ قوم ان باتوں کو اپنے ( ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۴۱) سے دور نہ کرے جو اس کے دل میں ہیں۔