تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 414

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۴۱۳ سورة الرعد بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الرعد بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللهُ الَّذِى رَفَعَ السَّبُوتِ بِغَيْرِ عَبَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِى لِاَجَلٍ مُّسَمًّى - يُدَبِرُ الاَمرَ يُفَصِّلُ الْآيَتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ تمہارا خداوہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا۔اس آیت کے ظاہری معنی کے رو سے اس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا اس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء الوراء ہونے کی ایک حالت ہے جو اس کی صفت ہے پس جب کہ خدا نے زمین و آسمان اور ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور کلی طور پر اپنے نور سے سورج ، چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دیئے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہر ایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تنزہ کا ذکر کر دیا۔خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پر ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۷) خدا تعالیٰ نے تمام اجرام سماوی وارضی پیدا کر کے پھر اپنے وجود کو وراء الوراء مقام میں مخفی کیا جس کا نام