تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 408
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۷ سورة يوسف تکلیفیں آپ کو پہنچاتے رہے۔آپ کے صحابہ کو سخت سخت تکلیفیں دیں جن کے تصور سے بھی دل کانپ جاتا ہے اس وقت جیسے صبر اور برداشت سے آپ نے کام لیا وہ ظاہر بات ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ہجرت کی اور پھر فتح مکہ کا موقع ملا تو اس وقت ان تکالیف اور مصائب اور سختیوں کا خیال کر کے جو مکہ والوں نے تیرہ سال تک آپ پر اور آپ کی جماعت پر کی تھیں آپ کو حق پہنچتا تھا کہ قتل عام کر کے مکہ والوں کو تباہ کر دیتے اور اس قتل میں کوئی مخالف بھی آپ پر اعتراض نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ان تکالیف کے لئے وہ واجب القتل ہو چکے تھے اس لئے اگر آپ میں قوت غضبی ہوتی تو وہ بڑا عجیب موقع انتقام کا تھا کہ وہ سب گرفتار ہو چکے تھے۔مگر آپ نے کیا کیا؟ آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور کہالَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ - یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے مکہ کی مصائب اور تکالیف کے نظارہ کو دیکھو کہ قوت و طاقت کے ہوتے ہوئے کس طرح پر اپنے جانستان دشمنوں کو معاف کیا جاتا ہے یہ ہے نمونہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی۔۔مکہ والے بھی اپنی شرارتوں اور مجرمانہ حرکات کے باعث اس قابل تھے کہ ان کو سخت سزائیں دی جاتیں اور ان کے وجود سے اس ارض مقدس اور اس کے گرد نواح کو صاف کر دیا جاتا مگر یہ رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ اور اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کا مصداق اپنے واجب القتل دشمنوں کو بھی پوری قوت اور مقدرت کے ہوتے ہوئے کہتا ہے : لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔اقام جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۴) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح سے اقتدار اور اختیار حاصل کر کے اپنے جانی دشمنوں اور خون کے پیاسوں کو اپنے سامنے بلا کر کہہ دیا: لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶) وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْ لَا أَنْ تُفَبِّدُونِ۔۹۵ ہر امر کے فیصلہ کے لئے معیار قرآن ہے۔دیکھو حضرت یعقوب علیہ السلام کا پیارا بیٹا یوسف علیہ السلام جب بھائیوں کی شرارت سے ان سے الگ ہو گیا تو آپ چالیس برس تک اس کے لئے دعائیں کرتے رہے اگر وہ جلد باز ہوتے تو کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوتا۔چالیس برس تک دعاؤں میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان رکھا۔آخر چالیس برس کے بعد وہ دعا ئیں کھینچ کر یوسف (علیہ السلام ) کو لے ہی آئیں۔