تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 405
۴۰۴ سورة يوسف تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نفس انسان کے تین مرتبے بیان فرمائے ہیں امارہ ، لوامہ ، مطمئنہ۔نفس امارہ تو ہر وقت انسان کو گناہ اور نافرمانی کی طرف کھینچتا رہتا ہے اور بہت خطرناک ہے۔لوامہ وہ ہے کہ کبھی کوئی بدی ہو جاوے تو ملامت کرتا ہے مگر یہ بھی قابل اطمینان نہیں ہے قابل اطمینان صرف نفس کی وہ حالت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نفس مطمئنہ کے نام سے پکارا ہے اور وہی اچھا ہے۔وہ اس حالت کا نام ہے کہ جب انسان خدا کے ساتھ ٹھیر جاتا ہے۔اسی حالت میں آکر انسان گناہ کی آلائیش سے پاک کیا جاتا ہے۔یہی ایک گناہ سوز حالت ہے اور اسی درجہ کے انسانوں کے ساتھ برکات کے وعدے ہوئے ہیں۔ملائکہ کا نزول ان پر ہوتا ہے اور حقیقی نیکی اور پاکی صرف انہیں کا حصہ ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۵) امارہ مبالغہ کا صیغہ ہے۔امارہ کہتے ہیں بدی کی طرف لے جانے والا ، بہت بدی کا حکم کرنے والا۔۔۔۔نفس امارہ انسان کا دشمن ہے اور وہ گھر کا پوشیدہ دشمن ہے۔(احکم جلد ۱۲ نمبر ۱ ۴ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۵) امارہ مبالغہ کا صیغہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بدی کی طرف بار بار جانے والا۔( بدر جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخه ۲۵/جون ۱۹۰۸ء صفحه ۵) ج وَ قَالَ الْمَلِكُ اثْتُونِى بِهِ اسْتَخْلِصُهُ لِنَفْسِى فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِين آمين۔اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِين آمين۔۔۔۔تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امانتدار۔۔۔۔ہے۔(براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۶۶ حاشیه در حاشیہ نمبر ۴) آج تو میرے نزدیک با مرتبہ اور امین ہے۔برا این احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد اصلحه ۲۰۰ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ قَالُوا يَا بَانَا مُنِعَ مِنَّا الكَيْلُ فَارْسِلُ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلُ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ إنا له لحفظون۔۔۔ہم ہی محافظ ہیں۔(براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۶۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۴)