تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 400

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۹۹ سورة يوسف مصیبتوں سے اپنے آپ کو امن میں پاتا ہے اور اس طرح پر ایک برودت اور اطمینان قلب کو حاصل ہوتا ہے کسی قسم کی گھبراہٹ اور اضطراب باقی نہ رہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۳) انسان میں نفس بھی ہے اور اس کی تین قسم ہیں امارہ ، لوامہ مطمئنہ۔امارہ کی حالت میں انسان جذبات اور بے جا جوشوں کو سنبھال نہیں سکتا اور اندازہ سے نکل جاتا اور اخلاقی حالت سے گر جاتا ہے مگر حالت لوامہ میں سنبھال لیتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۹) قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس انسانی کی تین حالتیں ہیں ایک امارہ ، دوسری لوامہ، تیسری مطمئنہ نفس امارہ کی حالت میں انسان شیطان کے پنجہ میں گویا گرفتار ہوتا ہے اور اس کی طرف بہت جھکتا ہے لیکن نفس لوامہ کی حالت میں وہ اپنی خطا کاریوں پر نادم ہوتا اور شرمسار ہوکر خدا کی طرف جھکتا ہے مگر اس حالت میں بھی ایک جنگ رہتی ہے۔کبھی شیطان کی طرف جھکتا ہے اور کبھی رحمان کی طرف مگر نفس مطمئنہ کی حالت میں وہ عباد الرحمان کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ گویا ارتفاعی نقطہ ہے جس کے بالمقابل نیچے کی طرف اتارہ ہے۔اس میزان کے بیچ میں لوامہ ہے جو ترازو کی زبان کی طرح ہے۔انخفضاضی نقطہ کی طرف اگر زیادہ جھکتا ہے تو حیوانات سے بھی بدتر اور ارذل ہو جاتا ہے اور ارتفاعی نقطہ کی طرف جس قدر رجوع کرتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کی طرف قریب ہوتا جاتا ہے اور سفلی اور ارضی حالتوں سے نکل کر علوی اور سماوی فیضان سے حصہ لیتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۳۳) نفس تین قسم کے ہوتے ہیں ایک نفس امارہ، ایک لوامہ اور تیسرا مطمئنہ۔پہلی حالت میں تو صح بکھ ہوتا ہے کچھ معلوم اور محسوس نہیں ہوتا کہ کدھر جا رہا ہے۔امارہ جدھر چاہتا ہے لے جاتا ہے۔اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تو معرفت کے ابتدائی حالت میں لوامہ کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور گناہ اور نیکی میں فرق کرنے لگتا ہے گناہ سے نفرت کرتا ہے مگر پوری قدرت اور طاقت عمل کی نہیں پاتا۔نیکی اور شیطان سے ایک قسم کا جنگ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ کبھی یہ غالب ہوتا ہے اور کبھی مغلوب ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ وہ حالت آجاتی ہے کہ یہ مطمئنہ کے رنگ میں آجاتا ہے اور پھر گناہوں سے نری نفرت ہی نہیں ہوتی بلکہ گناہ کی لڑائی میں یہ فتح پالیتا ہے اور ان سے بچتا ہے اور نیکیاں اس سے بلا تکلف صادر ہونے لگتی ہیں۔الحکم جلدے نمبر۷ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۵) جب انسان شرعی امور کو ادا کرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور بری اور