تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 399
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۸ سورة يوسف چار پایوں کی طرح کھانے پینے سونے جاگنے یا غصہ اور جوش دکھلانے وغیرہ امور میں طبعی جذبات کا پیرور بتا ہے۔( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۱۷،۳۱۶) فَإِنَّ النَّفْسَ الْأَمَّارَةَ نُعْبَانُ تَبْسُطُ نفس امارہ ایسا اثر دھا ہے جو خواہشات نفسانیہ کے شُرُكَ الْهَوَى، وَيَهْلِكُ النَّاسَ كُلُّهُمْ إِلَّا جال بچھاتا ہے اور تمام کے تمام لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مَنْ رَّحِمَ رَبُّهُ وَبَسَطَ عَلَيْهِ جَنَاحَةَ سوائے ان کے کہ جن پر ان کا رب رحم کرے اور ان پر بِاللَّطْفِ وَالْهُدَى اپنے باز واطف اور ہدایت کے ساتھ پھیلا لے۔(ترجمه از مرتب) (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۸۴) یہ طوفان جو نفسانی شہوات کے غلبہ سے پیدا ہوتا ہے یہ نہایت سخت اور دیر پا طوفان ہے جو کسی طرح بجز رحم خداوندی کے دور ہو ہی نہیں سکتا اور جس طرح جسمانی وجود کے تمام اعضاء میں سے بڑی نہایت سخت ہے اور اس کی عمر بھی بہت لمبی ہے۔اسی طرح اس طوفان کے دور کرنے والی قوت ایمانی نہایت سخت اور عمر بھی لمبی رکھتی ہے تا ایسے دشمن کا دیر تک مقابلہ کر کے پامال کر سکے اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے رحم سے۔کیونکہ شہوات نفسانیہ کا طوفان ایک ایسا ہولناک اور پر آشوب طوفان ہے کہ بجز خاص رحم حضرت احدیت کے فرو نہیں ہو سکتا۔اسی وجہ سے حضرت یوسف کو کہنا پڑا: وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِی إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رتی یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا۔نفس نہایت درجہ بدی کا حکم دینے والا ہے اور اس کے حملہ سے مخلصی غیر ممکن ہے مگر یہ کہ خود خدا تعالیٰ رحم فرما دے۔اس آیت میں جیسا کہ فقره الا مَا رَحِمَ رَبِّی ہے طوفانِ نوح کے ذکر کے وقت بھی اسی کے مشابہ الفاظ ہیں کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللهِ إِلا مَنْ رَّحِمَ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طوفان شہوات نفسانیہا اپنی عظمت اور ہیبت میں نوح کے طوفان سے مشابہ ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۰۶) نفس کی تین قسمیں ہیں امارہ ، لوامہ، مطمئنہ۔مطمعنہ کی ایک حالت نفس زکیہ کہلاتی ہے۔نفس زکیہ بچوں کا نفس ہوتا ہے جس کو کوئی ہوا نہیں لگی ہوتی ہے اور وہ ہر قسم کے نشیب و فراز سے ناواقف ایک ہموار سطح پر چلتے ہیں۔نفس امارہ وہ ہے جب کہ دنیا کی ہوا لگتی ہے۔نفس لوامہ وہ نفس ہے جبکہ ہوش آتی ہے اور لغزشوں کو سوچتا ہے اور کوشش کرتا ہے اور بدیوں سے بچنے کے لئے دعا کرتا ہے۔اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہوتا ہے اور نفس مطمئنہ وہ ہوتا ہے جبکہ ہر قسم کی بدیوں سے بچنے کی بفضل الہی قوت اور طاقت پاتا ہے اور ہر قسم کی آفتوں اور