تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 398

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۷ سورة يوسف کہتے ہیں کہ ایک لمبا زمانہ جو بارہ برس کے قریب بتایا جاتا ہے وہ جیل میں رہے لیکن اس عرصہ میں کبھی حرف شکایت زبان پر نہ آیا۔اللہ تعالیٰ اور اس کی تقدیر پر پورے راضی رہے۔اس عرصہ میں بادشاہ کو کوئی عرضی بھی نہیں دی کہ ان کے معاملہ کو سوچا جاوے یا انہیں رہائی دی جاوے بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس اہل غرض عورت نے تکالیف کا سلسلہ بڑھا دیا کہ کسی طرح پر وہ پھسل جاویں مگر اس صدیق نے اپنا صدق نہ چھوڑا۔خدا نے ان کو صدیق ٹھہرایا یہ بھی صدیق کا ایک مقام ہے کہ دنیا کی کوئی آفت کوئی تکلیف اور ذلت اسے حدود اللہ کے توڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی جس قدر اذیتیں اور بلا ئیں بڑھتی جاویں وہ اس کے مقام صدق کو زیادہ مضبوط اور لذیذ بناتی جاتی ہیں۔الحکم جلد 9 نمبر ۷ امورخه ۱۷ مئی ۱۹۰۵ صفحه ۲) يُوسُفُ اَيُّهَا الصِّدِيقُ افْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَ سبع سنبلت خُضْرٍ وَ أَخَرَ يَبِستِ لَعَلَى اَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ مصر کے بادشاہ فرعون نے حضرت یوسف علیہ السلام کو صدیق کا خطاب دیا کیونکہ بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس شخص نے صدق اور پاک باطنی اور پرہیز گاری کے محفوظ رکھنے کے لئے ہاراں برس کا جیل خانہ اپنے لئے منظور کیا مگر بدکاری کی درخواست کو نہ مانا بلکہ ایک لحظہ کے لئے بھی دل پلید نہ ہوا تب بادشاہ نے اس راست باز کو صدیق کا خطاب دیا جیسا کہ قرآن شریف سورۃ یوسف میں ہے يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيق معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خطابوں میں سے پہلا خطاب وہی تھا جو حضرت یوسف کو ملا۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۰۳ حاشیه ) وَمَا أبَرِّئُ نَفْسِى : إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي عفور رحيم ۵۴ نفس امارہ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو بدی کی طرف جو اس کے کمال کے مخالف اور اس کی اخلاقی حالتوں کے برعکس ہے جھکاتا ہے اور نا پسندیدہ اور بد راہوں پر چلانا چاہتا ہے۔غرض بے اعتدالیوں اور بدیوں کی طرف جانا انسان کی ایک حالت ہے جو اخلاقی حالت سے پہلے اس پر طبعاً غالب ہوتی ہے اور یہ حالت اس وقت تک طبعی حالت کہلاتی ہے جب تک کہ انسان عقل اور معرفت کے زیر سایہ نہیں چلتا بلکہ