تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 397
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۶ سورة يوسف و معدوم نه از چینم حکایت کن نه از روم که دارم داستانی اندریس بوم چو روئے خوب او آید بیادم فراموشم شود موجود اور پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔با تو مشغول و با تو ہم اہم و از از تو بخشایش تو میخواهم تا مرا از تو آگهی دادند بوجودت گر از کود آگاهم اور خود وہ محویت کا ہی اثر تھا جس سے زلیخا کی سہیلیوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۹۳، ۵۹۴) قَالَ رَبِّ الرّجنُ اَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِى إِلَيهِ ۚ وَ إِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ اَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَهِلِينَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِی إِلَيْهِ یعنی اے میرے رب مجھے تو قید بہتر ہے ان باتوں سے کہ یہ عورتیں مجھ سے خواہش کرتی ہیں۔خلاصہ مطلب یہ کہ اگر کوئی عورت ایسی خواہش کرے تو میں اپنے نفس کے لئے اس امر سے قید ہو نا زیادہ پسند کرتا ہوں۔یہ یوسف بن یعقوب علیہما السلام کی دعا تھی جس دعا کی وجہ سے وہ قید ہو گئے۔برائین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۹۹٬۹۸) نظائر سے مسائل بہت جلد حل ہو جاتے ہیں اگر گذشتہ زمانہ میں اس کی نظیر دیکھی جاوے تو پھر یوسف کا صدق ہے ایسا صدق دکھایا کہ یوسف صدیق کہلایا۔ایک خوبصورت معزز اور جوان عورت جو بڑے بڑے دعوے کرتی ہے۔عین تنہائی اور تخلیہ میں ارتکاب فعل بد چاہتی ہے لیکن آفرین ہے اس صدیق پر کہ خدا تعالیٰ کے حدود کو توڑنا پسند نہ کیا اور اس کے بالمقابل ہر قسم کی آفت اور دکھ اُٹھانے کو آمادہ ہو گیا یہاں تک کہ قیدی کی زندگی بسر کرنی منظور کر لی۔چنانچہ کہا : رَبِّ الجُنُ اَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ يعنى يوسف عليه ) السلام نے دعا کی کہ اے رب مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہیں۔اس سے حضرت یوسف کی پاک فطرت اور غیرت نبوت کا کیسا پتہ لگتا ہے کہ دوسرے امر کا ذکر تک نہیں کیا۔کیا مطلب کہ اس کا نام نہیں لیا۔یوسف اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے گرویدہ اور عاشق زار تھے۔ان کی نظر و میں اپنے محبوب کے سوا دوسری کوئی بات بچ سکتی نہ تھی۔وہ ہرگز پسند نہ کرتے تھے کہ حدود اللہ کو توڑیں۔