تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 396
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۵ سورة يوسف فَلَمَّا رَا قَمِيصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِنْ كَيْدِكُنَ إِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ۔إِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ یعنی اے عورتو! تمہارے قریب بہت بڑے ہیں۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۹۶) فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَكَا وَاتَتْ كُل ج وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِيْنًا وَ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَةَ أَكْبَرْنَهُ وَ قَطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هُذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكَ كَرِيمُ محبت اور شہود عظمت تامہ کی کمالیت اسی حالت میں ثابت ہوگی کہ جب عاشق دلدادہ محض استیلا و عشق کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے اپنے معدوم لے کے ماسوا کو معدوم سمجھے اور اپنے معشوق کے غیر کو کالعدم خیال کرے۔گو عقل (1) شرع اس کو سمجھاتی ہوں کہ وہ چیزیں حقیقت میں معدوم نہیں ہیں جیسے ظاہر ہے کہ جب دن چڑھتا ہے اور لوگوں کی آنکھوں پر نور آفتاب کا استیلاء کرتا ہے تو باوجود اس کے کہ لوگ جانتے ہیں کہ ستارے اس وقت معدوم نہیں مگر پھر بھی بوجہ استیلاء اس نور کے کہ ستاروں کو دیکھ نہیں سکتے ایسا ہی استیلاء محبت اور عظمت اللہ کا محب صادق کی نظر میں ایسا ظاہر کرتا ہے کہ گویا تمام عالم بجز اس کے محبوب کے معدوم ہے اور اگر چه عشق حقیقی میں یہ تمام انور کامل اور اتم طور پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی عشق مجازی کا مبتلا بھی اس غایت درجہ عشق پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنے معشوق کے غیر کو یہاں تک کہ خود اپنے نفس کو کالعدم سمجھنے لگتا ہے چنانچہ منقول ہے کہ مجنوں جس کا نام قیس ہے اپنے عشق کی آخری حالت میں ایسادیوانہ ہو گیا کہ یہ کہنے لگا کہ میں آپ ہی لیلی ہوں۔سو یہ بات تو نہیں کہ فی الحقیقت وہ لیلیٰ ہی ہو گیا تھا بلکہ اس کا یہ باعث تھا کہ چونکہ وہ مدت تک تصور لیلی میں غرق رہا اس لئے آہستہ آہستہ اس میں خود فراموشی کا اثر ہونے لگا۔ہوتے ہوتے اس کا استغراق بہت ہی کمال کو پہنچ گیا اور محویت کی اس حد تک جا پہنچا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جنون عشق سے انا الیلی کا دعویٰ کرنے لگا اور یہ خیال دل میں بندھ گیا کہ فی الحقیقت میں ہی لیلی ہوں۔غرض غیر کو معدوم سمجھنا لوازم کمال عشق میں سے ہے اور اگر غیر فی الحقیقت معدوم ہی ہے تو پھر وہ ایسا امر نہیں ہے کہ جس کو استیلاء محبت اور جنون عشق سے کچھ بھی تعلق ہو اور غلبہ عشق کی حالت میں محویت کے آثار پیدا ہو جانا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو انسان مشکل سے سمجھ سکے۔شیخ مصلح الدین شیرازی نے خوب کہا ہے: ا نقل بمطابق اصل۔اگلی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں معدوم کا لفظ ہو کتابت ہے۔صحیح لفظ " محبوب" ہے۔ناشر