تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 395
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ سورة يوسف لكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ - البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ۱۹ مورخه ۸ تا ۶ ارمئی ۱۹۰۴ء صفحه ۳) وَلمَّا بَلَغَ أَشَدَّةٌ أَتَيْنَهُ حُكْمَا وَ عِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ۔اشت سے مراد۔۔۔۔نبوت نہیں ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ جب ہوش میں آیا۔آشا بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک وحی کی آشد اور دوسری جسمانی آهی البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۲) وَلَقَد هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَن تَابُرُهَانَ رَبِّهِ كَذلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاء إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ® (۲۵) فطرة انسان کو شہوات نفسانیہ کا تعلق بہ نسبت مال کے تعلق کے بہت پیارا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مال کو جو اس کے نزدیک مدار آسائیش ہے بڑی خوشی سے شہوات نفسانیہ کی راہ میں فدا کر دیتا ہے اور اس حالت کے خوفناک جوش کی شہادت میں یہ آیت کافی ہے: وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْ لَا أَنْ ذَا بُرْهَانَ رَبِّهِ یعنی یہ ایسا منہ زور جوش ہے جو اس کا فرو ہونا کسی بُرہانِ قومی کا محتاج ہے۔ج (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۳۷) لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَ الفحشاء۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے یوسف پر احسان کیا تا ہم اس سے بدی اور بخش کو برائن احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۶۱، ۶۶۲ حاشیه در حاشیه نمبر (۴) روک دیں۔قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِى وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَبِيصُهُ قُدَّ مِن قَبْلِ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكَذِبِينَ یادر ہے کہ جب یوسف بن یعقوب پر زلیخا نے بے جا الزام لگایا تھا تو اس موقعہ پر خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا یعنی زلیخا کے قریبوں میں سے ایک شخص نے یوسف کی بریت کی (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه (۹۸) گواہی دی۔