تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 386
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۶ کیونکہ بہشت ان کے لئے ایک ایسی عطا ہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے محروم نہیں رہ سکتے۔سورة هود (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۱،۲۸۰) عَطَاء غَيْرَ مَجْذُوذ۔۔۔۔۔بخشش جس کا کبھی انقطاع نہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) یہ وہ عطا ہے جو واپس نہیں لی جائے گی۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۸) بہشت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عَطَاء غَيْرَ مَجنون یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا انقطاع نہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو بہشت کے درمیان بھی مومنوں کا کھٹکا رہتا کہ کہیں نکالے نہ جاویں لیکن برخلاف اس کے دوزخ کے متعلق ایسا نہیں بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سب دوزخ سے نکل چکے ہوں گے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی یہی ہے۔آخر انسان خدا کی مخلوق ہے۔خدا تعالیٰ اس کی کمزوریوں کو دور کر دے گا اور اس کو رفتہ رفتہ دوزخ کے عذاب سے نجات بخشے گا۔( بدر جلد نمبر ۱۳ مورخه ۱/۳ پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۴) فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو صرف اس ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ نے ہی بوڑھا کر دیا۔کس قدر احساس موت ہے، آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بادی کامل اور پھر قیامت تک کے لئے اور اس پر کل دنیا کے لئے مقرر فرما یا مگر آپ کی زندگی کے کل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہیں جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانون قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو گویا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا فاستقم كما أمرت یعنی سیدھا ہو جا۔کسی قسم کی بد اعمالی کی کبھی نہ رہے۔پھر راضی ہوں گا۔آپ بھی سیدھا ہو جا اور دوسروں کو بھی کر۔عرب کے لئے سیدھا کرنا کس قدر مشکل تھا۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱ صفحه ۱۱) الحکم جلد ۵ مورخه ۳۱ / جولائی ۱۹۰۱ صفحه ۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھے سورہ ہود نے بوڑھا کر دیا کیونکہ اس حکم