تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 384
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۴ سورة هود چھوڑنے میں تمام عذاب ہے۔چشمه سیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۸ تا ۳۷۰) یہ بات فی نفسہ غیر معقول ہے کہ انسان کو ایسی ابدی سزا دی جائے کہ جیسا خدا ہمیشہ کے لئے ہے ایسا ہی خدا کی ابدیت کے موافق ہمیشہ دوزخی دوزخ میں رہیں۔آخر ان کے قصوروں میں خدا کا بھی دخل ہے کیونکہ اسی نے ایسی قو تیں پیدا کیں جو کمزور تھیں۔پس دوزخیوں کا حق ہے جو اس کمزوری سے فائدہ اٹھاویں جوان کی فطرت کو خدا کی طرف سے ملی ہے۔چشمه مسیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۹،۳۶۸ حاشیه ) گناہ کی سزا ہوگی اور عذاب ہوگا مگر یہ ابدیت وہ نہیں جس طرح خدائی ابدیت ہے۔ایک خاص وقت تک جہنم میں رکھ کر اصلاح ہو جانے پر رہائی ہو جاوے گی۔کوئی مانے یا نہ مانے مگر خدا کے کلام سے یہی ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ جہاں بہشت کا ذکر ہے وہاں عَطَاء غَيْرَ مَجْذُوذٍ کا لفظ ہے اور جہاں جہنم کا ذکر ہے وہاں یہ فرمایا که إِلا مَا شَاءَ رَبِّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَقَالُ لِمَا يُرِيدُ ان آیات میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بہشتیوں کو خوف نہیں ولا یا گیا مگر دوزخیوں کو مخلصی کی امید ضرور دلائی ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر بہشت کے متعلق عَطاء غَیر مجنون کا لفظ نہ ہوتا تو بہشت والوں کو بھی کھٹکا ہی رہتا مگر خدا نے عطاء غَيْرَ مَجْذُوذ کا لفظ بڑھا کر وہ کھٹکا ہی مٹا دیا کہ یہ خدا کی عطا ہے وہ واپس نہیں لی جاتی اور اس کی نسبت ہم نے ایک اور حدیث بھی دیکھی ہے جس میں لکھا کہ يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيهَا أَحَدٌ وَ نَسِيمُ الصَّبَا تُحَزِكُ أَبْوَابَهَا - الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۳) ہمارا یہ مذہب ہر گز نہیں ہے کہ گند گاروں کو ایسی سزا ابدی ملے گی کہ اس سے پھر کبھی نجات ہی نہ ہوگی بلکہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم گنہ گاروں کو بچالے گا اور اسی لئے قرآن شریف میں جہاں عذاب کا ذکر کیا ہے وہاں فَقَالَ لِما يُرند فرمایا ہے۔(الحکم جلد نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲) میں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔وہ فَعَالُ لِمَا يُرِيدُ ہے۔الحام جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۶ صفحه (۴) کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔لیکن اگر تیرا رب چاہے کیونکہ جو کچھ وہ چاہتا ہے اس کے کرنے پر وہ