تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 383
۳۸۳ سورة هود تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ لیں گے۔جیسا کہ حدیث میں بھی ہے : يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيهَا أَحَدٌ وَنَسِيمُ الصَّبَا تحرك ابوابها یعنی جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہیں ہوگا اور نسیم صبا اس کے کواڑ ہلائے گی۔اسی کے مطابق قرآن شریف میں یہ آیت ہے: إِلا مَا شَاءَ رَبِّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَقَالَ لِمَا يُرِيدُ يعنى دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن جب خدا چاہے گا تو ان کو دوزخ سے مخلصی دے گا کیونکہ تیرا رب جو چاہتا ہے کر سکتا ہے۔یہ تعلیم خدا تعالیٰ کی صفات کا ملہ کے مطابق ہے کیونکہ اس کی صفات جلالی بھی ہیں اور جمالی بھی اور وہی زخمی کرتا ہے اور وہی پھر مرہم لگاتا ہے اور یہ بات نہایت نا معقول اور خدائے عز وجلت کے صفات کا ملہ کے برخلاف ہے کہ دوزخ میں ڈالنے کے بعد ہمیشہ اس کے صفات قہر یہ ہی جلوہ گر ہوتی رہیں اور کبھی صفت رحم اور عفو کی جوش نہ مارے۔اور صفات کرم اور رحم کے ہمیشہ کے لئے معطل کی طرح رہیں بلکہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مدت دراز تک جس کو انسانی کمزوری کے مناسب حال استعارہ کے رنگ میں ابد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے دوزخی دوزخ میں رہیں گے۔اور پھر صفت رقم اور کرم محلی فرمائے گی اور خدا اپنا ہاتھ دوزخ میں ڈالے گا اور جس قدر خدا کی مٹھی میں آجائیں گے سب دوزخ سے نکالے جائیں گے۔پس اس حدیث میں بھی آخر کا رسب کی نجات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خدا کی مٹھی خدا کی طرح غیر محدود ہے جس سے کوئی بھی باہر نہیں رہ سکتا۔یا در ہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت به نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغناء ذاتی کے پر توہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پر توہ اس پر پڑتا ہے۔اس کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بحص يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ (الرحمن : ۳۰)۔پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے پھر صفات کرم اور رحم ہمیشہ کے لئے معطل ہو جا ئیں گی اور کبھی ان کی تحلی نہیں ہوگی۔کیونکہ صفات الہیہ کا تعطل ممتنع ہے بلکہ حقیقی صفت خدا تعالیٰ کی محبت اور رحم ہے اور وہی اُم الصفات ہے اور وہی کبھی انسانی اصلاح کے لئے صفات جلالیہ اور غضبیہ کے رنگ میں جوش مارتی ہے اور جب اصلاح ہو جاتی ہے تو محبت اپنے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر بطور موہبت ہمیشہ کے لئے رہتی ہے۔خدا ایک چڑ چڑے انسان کی طرح نہیں ہے جو خواہ نخواہ عذاب دینے کا شائق ہو اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔اس کی محبت میں تمام نجات اور اس کو