تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 371

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۱ سورة هود استغفارا اور تو بہ دو چیزیں ہیں۔ایک وجہ سے استغفار کو تو بہ پر تقدم ہے کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی جس کا نام تُوبُوا الیہ ہے اس لئے طبعی طور پر بھی یہی ترتیب ہے غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمداد چاہے۔سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا کیا کر سکے گا۔توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے۔اگر استغفار نہ ہو تو یقیناً یاد رکھو کہ تو بہ کی قوت مرجاتی ہے۔پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر تو بہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہوگا يُمَتِّعَكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور تو بہ کرو گے تو اپنے مراتب پالو گے۔ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔ہر ایک آدمی نبی ، رسول ، صدیق ، شہید نہیں ہوسکتا۔غرض اس میں شک نہیں کہ تفاضل درجات امرحق ہے۔اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان امور پر مواطنت کرنے سے ہر ایک سالک اپنی اپنی استعداد کے موافق درجات اور مراتب کو پالے گا۔یہی مطلب ہے اس آیت کا وَيُؤْتِ كُلّ ذِى فَضْلٍ فَضْلَہ۔لیکن اگر زیادت لے کر آیا ہے تو خدا تعالیٰ اس مجاہدہ میں اس کو زیادت دے دے گا اور اپنے فضل کو پالے گا جو طبعی طور پر اس کا حق ہے۔ذی الفضل کی اضافت ملکی ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا محروم نہ رکھے گا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ / جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا وَ يَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كل في كتب مُّبِينٍ كُلٌّ زمین پر کوئی بھی ایسا چلنے والا نہیں جس کے رزق کا خدا آپ متکفل نہ ہو۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۳) اگر خدا سے کوئی روٹی مانگے تو کیا نہ دے گا۔اس کا وعدہ ہے : وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا۔کتے بلی بھی تو اکثر پیٹ پالتے ہیں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی رزق ملتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۲۸)