تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 367

۳۶۷ سورة هود تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہوئیں اور قیامت تک ہوں گی۔در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی کامیابیاں ہیں۔غرض ہر صدی کے سر پر مجدد کا آنا صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ مردوں سے استمداد خدا تعالیٰ کی منشاء کے موافق نہیں اگر مردوں سے مدد کی ضرورت ہوتی تو زندوں کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہزاروں ہزار جو اولیاء اللہ پیدا ہوتے ہیں اس کا کیا مطلب تھا مجددین کا سلسلہ کیوں جاری کیا جاتا ؟ اگر اسلام مردوں کے حوالے کیا جاتا تو یقیناً سمجھو کہ اس کا نام و نشان مٹ گیا ہوتا۔یہودیوں کا مذہب مردوں کے حوالے کیا گیا۔نتیجہ کیا ہوا ؟ عیسائیوں نے مردہ پرستی سے بتلاؤ کیا پایا؟ مردوں کو پوجتے پوجتے خود مردہ ہو گئے۔نہ مذہب میں زندگی کی روح رہی نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔اول سے لے کر آخر تک مردوں ہی کا مجمع ہو گیا۔اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔اسلام کا خداحی و قیوم خدا ہے پھر وہ مردوں سے پیار کیوں کرنے لگا وہ حیی قیوم خدا تو بار بار مردوں کو جلاتا ہے يخي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الروم :۲۰) تو کیا مردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے نہیں۔ہرگز نہیں۔اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی کی و قیوم خدا نے إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ ( الحجر :١٠ ) کہہ کر اُٹھایا ہوا ہے۔پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے یاد رکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔پھر فرمایا تم فصلتُ۔ایک تو وہ تفصیل ہے جو قرآن کریم میں ہے دوسری یہ کہ قرآن کریم کے معارف و حقائق کے اظہار کا سلسلہ قیامت تک دراز کیا گیا ہے۔ہر زمانے میں نئے معارف اور اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔فلسفی اپنے رنگ میں ، طبیب اپنے مذاق پر ،صوفی اپنے طرز پر بیان کرتے ہیں اور پھر یہ تفصیل بھی حکیم و خبیر خدا نے رکھی ہے۔حکیم اس کو کہتے ہیں کہ جن چیزوں کا علم مطلوب ہو وہ کامل طور پر ہو اور پھر عمل بھی کامل ہوا ایسا کہ ہر ایک چیز کو اپنے اپنے محل و موقع پر رکھ سکے۔حکمت کے معنے وضْعُ الشَّيْء في محلّہ اور خبیر مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی ایسا وسیع علم کہ کوئی چیز اس کی خبر سے باہر نہیں چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مجید کو خاتم الکتب ٹھہرایا تھا اور اس کا زمانہ قیامت تک دراز تھا وہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر تعلیمیں ذہن نشین کرنی چاہئیں۔چنانچہ اسی کے مطابق تفاصیل کی ہیں۔پھر اس کا سلسلہ جاری رکھا کہ جو مجد دو مصلح احیاء دین کے لئے آتے ہیں وہ خود مفصل آتے ہیں۔احکم جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحہ ۷ تا ۹ ) اس کتاب میں دو خو بیاں ہیں ایک تو یہ کہ حکیم مطلق نے محکم اور مدلل طور پر یعنی علوم حکمیہ کی طرح اس کو