تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 362
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۲ سورة يونس قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَكَ اسْبُحْنَهُ هُوَ الْغَنِيُّ لَهُ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ اِنْ عِنْدَكُمْ مِنْ سُلْطَنٍ بِهَذَا أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے حالانکہ بیٹے کا محتاج ہونا ایک نقصان ہے اور خدا ہر یک نقصان سے پاک ہے۔وہ تو غنی اور بے نیاز ہے جس کو کسی کی حاجت نہیں جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔کیا تم خدا پر ایسا بہتان لگاتے ہو جس کی تائید میں تمہارے پاس کسی نوع کا علم نہیں۔برائین احمد یه چهار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وَجوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَاءِ يْلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَ عَدْوًا حَتَّى اِذَا اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ أَمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي أَمَنَتْ بِهِ بَنْوا إِسْرَاءِ يْلَ وَانَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔یا درکھو جو امن کی حالت میں ڈرتا ہے وہ خوف کی حالت میں بچایا جاتا ہے اور جو خوف کی حالت میں ڈرتا ہے تو وہ کوئی خوبی کی بات نہیں۔ایسے موقع پر تو کافر مشرک بے دین بھی ڈرا کرتے ہیں۔فرعون نے بھی ایسے موقع پر ڈر کر کہا تھا: امنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاوِيْلَ وَ أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ١١/١٢ اس سے صرف اتنا فائدہ اسے ہوا کہ خدا نے فرمایا کہ تیرا بدن تو ہم بچا لیں گے مگر تیری جان کو اب نہیں بچائیں گے آخر خدا نے اس کے بدن کو ایک کنارے پر لگا دیا۔ایک چھوٹے سے قد کا وہ آدمی تھا۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۳) دیکھو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں پہلے نرم نرم عذاب آئے کہ حشرات الارض نکل آئے ، خون پھیل گیا، قحط پڑ گیا۔بھلا فرعون قحط کو کیا جانتا تھا۔وہ تماشا سمجھتا ہوگا کیونکہ قحط کا اثر توغریبوں پر پڑتا ہے مگر اس کو یہ خبر نہ تھی کہ ایک دن بطش شدید کا آنے والا ہے جب اس کے منہ سے بے اختیار نکلے گا : أَمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاءِيلَ ابتدائی منذرات سے ڈرو گے تو نجات پاؤ گے۔( بدر جلدے نمبر ا مورخہ ۹/جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۱) فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ أَمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيْمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُوْسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا