تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 360
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۰ سورة يونس ایماندار لوگ دنیوی زندگی اور آخرت میں بھی تبشیر کے نشان پاتے رہیں گے جن کے ذریعے سے وہ دنیا اور آخرت میں معرفت اور محبت کے میدانوں میں نا پیدا کنار ترقیاں کرتے جائیں گے۔یہ خدا کی باتیں ہیں جو کبھی نہیں ملیں گی اور تبشیر کے نشانوں کو پا لینا یہی فوز عظیم ہے (یعنی یہی ایک امر ہے جو محبت اور معرفت کے منتہی مقام تک پہنچا دیتا ہے )۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۴۳۸) تیسری ان ( اللہ اور رسول کے تابع لوگوں ) کی یہ نشانی ہے کہ انہیں ( بذریعہ مکالمہ الہیہ ورویائے صالحہ ) بشارتیں ملتی رہتی ہیں اس جہاں میں بھی اور دوسرے جہاں میں بھی خدائے تعالیٰ کا ان کی نسبت یہ عہد ہے جو ٹل نہیں سکتا اور یہی پیارا درجہ ہے جو انہیں ملا ہوا ہے یعنی مکالمہ الہیہ اور رویائے صالحہ سے خدائے تعالی کے مخصوص بندوں کو جو اس کے ولی ہیں ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات و مخطبات الہیہ سے مشرف ہوں (یہی قانون قدرت اللہ جل شانہ کا ہے )۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۸۰،۴۷۹ حاشیه ) رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحه ۳۶) جو متقی ہوتے ہیں ان کو اسی دنیا میں بشارتیں بچے خوابوں کے ذریعہ ملتی ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ صاحب مکاشفات والہامات ہو جاتے ہیں۔مکالمۃ اللہ کا شرف حاصل کرتے ہی وہ بشریت کے لباس میں ہی ملائکہ کو دیکھ لیتے ہیں۔لاہور میں ایک مولوی عبد الحکیم صاحب سے مباحثہ ہوا تھا تو ہم نے اس کو یہی پیش کیا کہ تم خدا تعالی کے مکالمات سے کیوں ناراض ہوتے ہو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تو محدث تھے تو اس نے صاف طور پر انکار کیا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضی طور پر کہا تھا۔حضرت عمررؓ بھی محدث نہ تھے۔یہ محال ہے کہ آئندہ کسی کو الہام ہو ان کو اس پر بالکل ایمان نہیں ہے ، وہ مکالمات کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کئے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کو انہوں نے گونگا خدا مان لیا ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن شریف میں جو یہ آیا ہے: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنیا اس کا ان کے نزدیک کیا مطلب ہے اور جب ملائکہ ایسے مومنوں پر نازل ہوتے ہیں اور ان کو بشارتیں دیتے ہیں تو وہ بشارتیں کس کی طرف سے دیتے ہیں۔اس اعتقاد سے پھر قرآن شریف کا ان کو انکار کرنا پڑے گا کیونکہ سارا قرآن شریف اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مکالمہ کا شرف عطا ہوتا ہے اگر یہ شرف ہی کسی کو نہیں ملتا تو پھر قرآن شریف کی تاثیرات کا ثبوت کہاں سے ہوگا؟ اگر آفتاب دھندلا اور تاریک ہے تو اس کی روشنی پر کوئی کیا فرق کر سکے گا اور کیا یہ کہ کر فخر کرے گا کہ