تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 349

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۹ سورة يونس اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔پس ذرہ ایمانداری سے سوچنا چاہئے کہ یہ سب حالات کیسے آنحضرت کے اندرونی صداقت پر دلالت کر رہے ہیں۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۰۷ تا ۱۱۲) دوسری خوبی جو شرط کے طور پر مامورین کے لئے ضروری ہے وہ نیک چال چلن ہے کیونکہ بد چال چلن سے بھی دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔اور یہ خوبی بھی بدیہی طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے: فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ یعنی ان کفار کو کہہ دے کہ اس سے پہلے میں نے ایک عمر تم میں ہی بسر کی ہے پس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں کس درجہ کا امین اور راستباز ہوں۔اب دیکھو کہ یہ دونوں صفتیں جو مرتبہ نبوت اور ماموریت کے لئے ضروری ہیں یعنی بزرگ خاندان میں سے ہونا اور اپنی ذات میں امین اور راستباز اور خدا ترس اور نیک چلن ہونا۔قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کمال درجہ پر ثابت کی ہیں اور آپ کی اعلیٰ چال چلن اور اعلیٰ خاندان پر خود گواہی دی ہے۔اور اس جگہ میں اس شکر کے ادا کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اپنی وحی کے ذریعہ سے کفار کو ملزم کیا اور فرمایا کہ یہ میرا نبی اس اعلیٰ درجہ کا نیک چال چلن رکھتا ہے کہ تمہیں طاقت نہیں کہ اس کی گذشتہ چالیس برس کی زندگی میں کوئی عیب اور نقص نکال سکو۔باوجود اس کے کہ وہ چالیس برس تک دن رات تمہارے درمیان ہی رہا ہے۔اور نہ تمہیں یہ طاقت ہے کہ اس کے اعلیٰ خاندان میں جو شرافت اور طہارت اور ریاست اور امارت کا خاندان ہے ایک ذرہ عیب گیری کرسکو۔پھر تم سوچو کہ جو شخص ایسے اعلیٰ اور اطہر اور انفس خاندان میں سے ہے اور اس کی چالیس برس کی زندگی جو تمہارے رو بروئے گزری گواہی دے رہی ہے جو افترا اور دروغ بافی اس کا کام نہیں ہے تو پھر ان خوبیوں کے ساتھ جبکہ آسمانی نشان وہ دِکھلا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی تائید میں اس کے شامل حال ہورہی ہیں اور تعلیم وہ لایا ہے جس کے مقابل پر تمہارے عقائد سراسر گندے اور ناپاک اور شرک سے بھرے ہوئے ہیں تو پھر اس کے بعد تمہیں اس نبی کے صادق ہونے میں کون سا شک باقی ہے۔اسی طور سے خدا تعالیٰ نے میرے مخالفین اور مکند بین کو ملزم کیا ہے۔چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۲ میں میری نسبت یہ الہام ہے جس کے شائع کرنے پر بیس برس گزر گئے اور وہ یہ ہے: وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ یعنی ان مخالفین کو کہ دے کہ میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتارہا ہوں اور اس مدت دراز تک تم مجھے دیکھتے