تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 348

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ سورة يونس کرتا ہے کہ بیکبارگی ساری دنیا کو عداوت کرنے کا جوش دلاویں اور اپنی جان کو ہر وقت کی فکر میں ڈال لیں۔وہ تو اپنا مطلب سادھنے کے لئے سب سے صلح کاری اختیار کرتے ہیں اور ہر ایک فرقہ کو سچائی کا ہی سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔خدا کے لئے یک رنگ ہو جانا ان کی عادت کہاں ہوا کرتی ہے خدا کی وحدانیت اور عظمت کا کب وہ کچھ دھیان رکھا کرتے ہیں۔ان کو اس سے غرض کیا ہوتی ہے کہ ناحق خدا کے لئے دکھ اٹھاتے پھریں۔وہ تو صیاد کی طرح وہیں دام بچھاتے ہیں کہ جو شکار مارنے کا بہت آسان راستہ ہوتا ہے اور وہی طریق اختیار کرتے ہیں کہ جس میں محنت کم اور فائدہ دنیا کا بہت زیادہ ہو۔نفاق ان کا پیشہ اور خوشامد ان کی سیرت ہوتی ہے۔سب سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا اور ہر ایک چور اور سادھ سے برابر رابطہ رکھنا ان کا ایک خاص اصول ہوتا ہے۔مسلمانوں سے اللہ اللہ اور ہندوؤں سے رام رام کہنے کو ہر وقت مستعد رہتے ہیں اور ہر ایک مجلس میں ہاں سے ہاں اور نہیں سے نہیں ملاتے رہتے ہیں اور اگر کوئی میر مجلس دن کو رات کہے تو چاند اور کمیٹیاں دکھلانے کو بھی طیار ہو جاتے ہیں۔ان کو خدا سے کیا تعلق اور اس کے ساتھ وفاداری کرنے سے کیا واسطہ اور اپنی خوش باش جان کو مفت میں ادھر ادھر کا غم لگا لینا انہیں کیا ضرورت۔استاد نے ان کو سبق ہی ایک پڑھایا ہوا ہوتا ہے کہ ہر ایک کو یہی بات کہنا چاہئے کہ جو تیرا راستہ ہے وہی سیدھا ہے اور جو تیری رائے ہے وہی درست ہے اور جو تو نے سمجھا ہے وہی ٹھیک ہے غرض ان کی راست اور نار است اور حق اور باطل اور نیک اور بد پر کچھ نظر ہی نہیں ہوتی بلکہ جس کے ہاتھ سے ان کا کچھ منہ میٹھا ہو جائے وہی ان کے حساب میں بھگت اور سدھ اور جنٹلمین ہوتا ہے اور جس کی تعریف سے کچھ پیٹ کا دوزخ بھر تا نظر آوے اس کو کتی پانے والا اور سرگ کا وارث اور حیات ابدی کا مالک بنا دیتے ہیں۔لیکن واقعات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیر نے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پروانہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے۔اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعات خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کر کے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا