تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 346

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۶ سورة يونس انبیاء وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راستبازی کی قومی حجت پیش کر کے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا جیسا کہ یہ الزام قرآن شریف میں ہے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موجود ہے جہاں فرمایا ہے : فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ یونس الجزو11 ) یعنی میں ایسا نہیں کہ جھوٹ بولوں اور افتراء کروں۔دیکھو میں چالیس برس اس سے پہلے تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا کبھی تم نے میرا کوئی جھوٹ یا افترا ثابت کیا پھر کیا تم کواتنی سمجھ نہیں یعنے یہ سمجھ کہ جس نے کبھی آج تک کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا۔وہ اب خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔غرض انبیاء کے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات کو ہی دیکھا جائے تو ان کی صداقت ان کے واقعات سے ہی روشن ہو رہی ہے مثلاً اگر کوئی منصف اور عاقل ان تمام براہین اور دلائل صدق نبوت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔قطع نظر کر کے محض ان کے حالات پر ہی غور کرے تو بلاشبہ انہیں حالات پر غور کرنے سے ان کے نبی صادق ہونے پر دل سے یقین کرے گا اور کیوں کر یقین نہ کرے وہ واقعات ہی ایسے کمال سچائی اور صفائی سے معطر ہیں کہ حق کے طالبوں کے دل بلا اختیار ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔خیال کرنا چاہئے کہ کس استقلال سے آنحضرت اپنے دعوی نبوت پر باوجود پیدا ہو جانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہو جانے لاکھوں معاندوں اور مزاحموں اور ڈرانے والوں کے اول سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روز بروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہو جانا و ہم بھی نہیں گزرتا تھا بلکہ نبوت کا دعوی کرنے سے از دست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہہ کر لاکھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے سر پر بلا لیا، وطن سے نکالے گئے قتل کے لئے تعاقب کئے گئے، گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہو گیا، بار ہاز ہر دی گئی اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا، کوئی عمارت نہ بنائی ، کوئی بارگاہ طیار نہ ہوئی، کوئی سامان شاہانہ عیش و عشرت کا تجویز نہ کیا گیا، کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا بلکہ جو کچھ آیا وہ سب قیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا اور بھی ایک وقت بھی سیر ہو کر نہ کھایا اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کر کے سب قوموں اور سارے