تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 340

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۰ سورة يونس عنایت الہی توفیقات متواترہ سے موفق کر کے اور تزکیہ نفس کے کمال تک پہنچا کر اور فنافی اللہ کے انتہائی نقطہ تک کھینچ کر اس کے خاکہ کے بدن پر انواع اقسام کی برکات کا گوشت بھر دیتی ہے اور اس گوشت سے اس کی شکل کو چمکیلی اور اس کی تمام ہیکل کو آبدار کر دیتی ہے تب اس کے چہرہ پر کاملیت کا نور برستا ہے اور اس کے بدن پر کمال تام کی آب و تاب نظر آتی ہے اور یہ درجہ پیدائش کا جسمانی پیدائش کے اس درجہ سے مشابہ ہوتا ہے کہ جب جنین کے خاکہ کی ہڈیوں پر گوشت چڑھایا جاتا ہے اور خوبصورتی اور تناسب اعضا ظاہر کیا جاتا ہے۔پھر بعد اس کے روحانی پیدائش کا چھٹا درجہ ہے جو مصداق : ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ (المؤمنون : ۱۵) کا ہے۔وہ مرتبہ بقا ہے جو فنا کے بعد ملتا ہے جس میں روح القدس کامل طور پر عطا کیا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی کی روح انسان کے اندر پھونک دی جاتی ہے۔ایسا ہی یہ چھ مراتب خدا تعالیٰ کی پاک کلام میں بھی جمع ہیں۔اول حروف کا مرتبہ جو حامل کلام الہی اور کلمات کتاب اللہ کے لئے بطور تخم کے ہیں جن کو معانی مقصودہ سے کچھ بھی حصہ نہیں ہاں ان کے حصول کے لئے ایک استعداد بعیدہ رکھتے ہیں دوم کلمات کا مرتبہ جو اس تخم کے ذریعہ سے ظہور خارجی کے رنگ میں آئے جن کو معانی مقصودہ سے کچھ حصہ نہیں مگر ان کے حصول کے لئے ایک ذریعہ قریبہ ہیں سوم ان فقرات ناتمام کا مرتبہ جو ابھی کلام مقصودہ کے پورے درجہ تک نہیں پہنچے تھے کیونکہ ہنوز تنزیل کا سلسلہ نا تمام تھا اور خدا تعالیٰ کے کلام نے ابھی اپنا کامل چہرہ نہیں دکھلایا تھا مگر ان فقرات کو معانی مقصودہ سے ایک وافر حصہ تھا اس لئے وہ کلام تام الہی کے لئے بطور بعض اعضا کے ٹھہرے جن کا نام بلحاظ قلت و کثرت آیتیں اور سورتیں رکھا گیا چہارم اس کلام جامع تام مفصل ممیز کا مرتبہ جو سب نازل ہو چکا اور جمیع مضامین مقصودہ اور علوم حکمیه و قصص و اخبار و احکام و قوانین وضوابط و حدود و مواعید و انذارات و تبشیرات اور درشتی اور نرمی اور شدت اور رحم اور حقائق و نکات پر بالاستیفا مشتمل ہے پنجم بلاغت و فصاحت کا مرتبہ جو زینت اور آرائش کے لئے اس کلام پر ازل سے چڑھائی گئی ششم برکت اور تاثیر اور کشش کی روح کا مرتبہ جو اس پاک کلام میں موجود ہے جس نے تمام کلام پر اپنی روشنی ڈالی اور اس کو زندہ اور منور کلام ثابت کیا۔اسی طرح ہر یک عاقل اور فصیح منشی کے کلام میں یہی چھ مراتب جمع ہو سکتے ہیں گو وہ کلام اعجازی حد تک نہیں پہنچتا کیونکہ جن حروف میں کوئی کلام لکھا جائے گا خواہ وہ عربی ہوں یا انگریزی یا ہندی پہلے ان کا وجود ضروری ہے سو یہ تو پہلا مرتبہ ہوا جو مضامین مقصودہ کے اظہار کے لئے ایک ذریعہ بعیدہ ہے مگر ان سے کچھ حصہ نہیں رکھتا پھر بعد اس کے دوسرا مرتبہ کلمات کا ہے جو حروف قرار دادہ سے پیدا ہوں گے جن کو معانی و