تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 330
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣٠ سورة التوبة اور ظل اللہ بنتا ہے پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لیے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا وہ اس پر سخت گراں ہے اور اسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴/ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۶) تعلیم قرآنی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ نیکوں اور ابرار اخیار سے محبت کرو اور فاسقوں اور کافروں پر شفقت کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَیكُم یعنی اے کا فرو! یہ نبی ایسا مشفق ہے جو تمہارے رنج کو دیکھ نہیں سکتا اور نہایت درجہ خواہش مند ہے کہ تم ان بلاؤں سے نجات پا جاؤ۔نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۳) جیسا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے، حکیم بھی ہے اور اس کی حکمت اور مصلحت چاہتی ہے کہ اپنے نبیوں اور ماموروں کو ایسی اعلیٰ قوم اور خاندان اور ذاتی نیک چال چلن کے ساتھ بھیجے تا کہ کوئی دل ان کی اطاعت سے کراہت نہ کرے۔یہی وجہ ہے کہ جو تمام نبی علیہم السلام اعلیٰ قوم اور خاندان میں سے آتے رہے ہیں۔اسی حکمت اور مصلحت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کی نسبت ان دونوں خوبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ انفسکم یعنی تمہارے پاس وہ رسول آیا ہے جو خاندان اور قبیلہ اور قوم کے لحاظ سے تمام دنیا سے بڑھ کر ہے اور سب سے زیادہ پاک اور بزرگ خاندان رکھتا ہے۔( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۸۱) آنفس کے لفظ میں ایک قرآت زبر کے ساتھ ہے یعنی حرف فا کی فتح کے ساتھ اور اسی قرآت کو ہم اس جگہ ذکر کرتے ہیں اور دوسری قرأت بھی یعنی حرف فا کے پیش کے ساتھ بھی اسی کے ہم معنی ہے۔کیونکہ خدا قریش کو مخاطب کرتا ہے کہ تم جو ایک بڑے خاندان میں سے ہو۔یہ رسول بھی تو تمہیں میں سے ہے یعنی عالی تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه حاشیه (۲۸) خاندان ہے۔فَأَشَارَ اللهُ فِي قَوْلِهِ عَزِيزٌ وَفي قَوْلِهِ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عزیز اور حریص کے الفاظ حَرِيصٌ إلى أنَّه عَلَيْهِ السَّلامُ مَظْهَرُ میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صِفَتِهِ الرَّحْمَانِ بِفَضْلِهِ الْعَظِيْمِ لأَنه خدا تعالیٰ کے فضل عظیم سے اس کی صفت رحمن کے مظہر