تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 326

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٢٦ سورة التوبة صادقین ہے چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ یعنی صادقوں کے ساتھ رہو۔صادقوں کی صحبت میں ایک خاص اثر ہوتا ہے ان کا نور صدق و استقلال دوسروں پر اثر ڈالتا ہے اور ان کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدددیتا ہے۔انتقام جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۵ صفحه ۳) تیسرا پہلو حصول نجات اور تقویٰ کا صادقوں کی معیت ہے جس کا حکم قرآن شریف میں ہے: كُونُوا مَعَ الصدِقِينَ یعنی اکیلے نہ رہو کہ اس حالت میں شیطان کا داؤ انسان پر ہوتا ہے بلکہ صادقوں کی معیت اختیار کروان کی جمعیت میں رہوتا کہ ان کے انوار و برکات کا پر تو تم پر پڑتا رہے اور خانہ ، قلب کے ہر ایک خس و خاشاک کو محبت الہی کی آگ سے جلا کر نورالہی سے بھر دے۔البدر جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۲) متقی کے ساتھ چونکہ اللہ تعالیٰ کی معیت ہوتی ہے اس لیے دشمن پر بھی متقی کا رعب ہوتا ہے۔مگر یہ بات یادرکھنے کا قابل ہے کہ سچا تقویٰ کبھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک انسان صادقوں اور مردانِ خدا کی صحبت اختیار نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کے فرستادوں کی اطاعت میں ایک فنا اپنے اوپر طاری نہیں کر لیتا۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِینَ۔ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ رہو۔ان کی معیت سے قوت پکڑو۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی پوری حقیقت متقی ہونے کے بعد کھلتی ہے اور تقویٰ اللہ کی حقیقت اس وقت تک متحقق نہیں ہو سکتی جب تک ایک فانی مرد کی پاک صحبت میں رہ کر فائدہ نہ اٹھایا جائے اور یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ صرف صحبت میں رہنا ہی چنداں مفید اور کارگر نہیں ہوتا بلکہ صادقوں کی صحبت کے اختیار کرنے میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی اطاعت اختیار کی جائے۔اقام جلد ۵ نمبر ۵ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۰۱ صفحه ۱) صادقوں کے ساتھ ہونے سے وہ تاثیرات اور انوار دل پر پڑتے ہیں جو پاکیزگی بخش اور نجات کے چشمہ تک پہچانے والے ہوتے ہیں۔دنیا میں یہی قاعدہ ہے کہ صادقوں کی کشش اپنا اثر کرتی ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود کیسا بابرکت تھا کہ صحابہ میں آپ کی تاثیر ہوئی۔اسی طرح سے اب بھی خدا نے تاثیر کا ایک سلسلہ رکھا ہے یہ قانون قدرت ہےحصول فضل کا جو نجات کا موجب ہوتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۲ صفحہ ۷ ) صحبت میں بڑا شرف ہے۔اس کی تاثیر کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچا ہی دیتی ہے۔کسی کے پاس اگر خوشبو ہوتو