تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 324

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۴ سورة التوبة کو پالیتے لیکن اب چونکہ اس صحبت سے محروم ہیں اور انہوں نے ہماری باتیں سنے کا موقع کھودیا ہے اس لیے کبھی کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ دہریے ہیں۔شراب پیتے ہیں، زانی ہیں اور کبھی یہ اتہام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ ! پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کرتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ایسا کیوں کہتے ہیں؟ صحبت نہیں اور یہ قہر الہی ہے کہ صحبت نہ ہو۔لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صلح حدیبیہ کی ہے تو صلح حدیبیہ کی مبارک ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کو آپ کے پاس آنے کا موقع ملا اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں تو ان میں سے صدہا مسلمان ہو گئے۔جب تک انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نہ سنی تھیں۔ان میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک دیوار حائل تھی جو آپ کے حسن و جمال پر ان کو اطلاع نہ پانے دیتی تھی۔اور جیسا دوسرے لوگ کذاب کہتے تھے (معاذ اللہ ) وہ بھی کہہ دیتے تھے اور ان فیوض و برکات سے بے نصیب تھے جو آپ لے کر آئے تھے اس لیے کہ دور تھے لیکن جب حجاب اُٹھ گیا اور پاس آکر دیکھا اور سنا تو وہ محرومی نہ رہی اور سعیدوں کے گروہ میں داخل ہو گئے۔اسی طرح پر بہتوں کی بدنصیبی کا اب بھی یہی باعث ہے جب ان سے پوچھا جاوے کہ تم نے ان کے دعوئی اور دلائل کو کہاں تک سمجھا ہے تو بجز چند بہتانوں اور افتراؤں کے کچھ نہیں کہتے جو بعض مفتری سنا دیتے ہیں اور وہ ان کو سچ مان لیتے ہیں اور خود کوشش نہیں کرتے کہ یہاں خود تحقیق کریں اور ہماری صحبت میں رہ کر دیکھیں۔اس سے ان کے دل سیاہ ہو جاتے ہیں اور وہ حق کو نہیں پاسکتے لیکن اگر وہ تقویٰ سے کام لیتے تو کوئی گناہ نہ تھا کہ وہ آکر ہم سے ملتے جلتے رہتے اور ہماری باتیں سنتے رہتے حالانکہ عیسائیوں اور ہندوؤں سے بھی ملتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں ان کی مجلسوں میں جاتے ہیں پھر کون سا امر مانع تھا جو ہمارے پاس آنے سے انہوں نے پر ہیز کیا۔غرض یہ بڑی ہی بدنصیبی ہے اور انسان اس کے سبب سے محروم ہو جاتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا: كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْن۔اس میں بڑا نکتہ معرفت یہی ہے کہ چونکہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اس لیے ایک راست باز کی صحبت میں رہ کر انسان راست بازی سیکھتا ہے اور اس کے پاک انفاس کا اندر ہی اندراثر ہونے لگتا ہے جو اس کو خدا تعالیٰ پر ایک سچا یقین اور بصیرت عطا کرتا ہے اس کی صحبت میں صدق دل سے رہ صدق دل - کر وہ خدا تعالیٰ کی آیات اور نشانات کو دیکھتا ہے جو ایمان کے بڑھانے کے ذریعے ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۴)