تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 317
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۷ سورة التوبة پینے سے حیات جاودانی نصیب ہوتی ہے جس پر ابد الآباد تک موت ہر گز نہیں آسکتی اچھی طرح کمر بستہ ہو کر پورے استقلال سے اس صراط مستقیم کے راہ رو بنیں اور ہر قسم کی دنیاوی رکاوٹوں اور نفسانی خواہشات کی ذرہ پروانہ کر کے اللہ تعالی کے صادق مامور کی پوری معیت کریں تا کہ حکم كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ کی فرمانبرداری کا سنہری تمغہ آپ کو حاصل ہو۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۵ صفحه ۳۵۲ تا ۳۵۴ مورخه یکم دسمبر ۱۹۰۳ء۔نیز الحکم جلدے نمبر ۴۵،۴۴ مورخہ ۳۰ر نومبر تا ۱۰ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۸،۷) سال گزشتہ میں بمشورہ اکثر احباب یہ بات قرار پائی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگ کم سے کم ایک مرتبہ سال میں بہ نیت استفادہ ضروریات دین و مشوره اعلاء کلمه اسلام و شرع متین اس عاجز سے ملاقات کریں اور اس مشورہ کے وقت یہ بھی قرین مصلحت سمجھ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ۲۷ / دسمبر کو اس غرض سے قادیان میں آنا انسب اور اولیٰ ہے کیونکہ یہ تعطیل کے دن ہیں اور ملازمت پیشہ لوگ ان دنوں میں فرصت اور فراغت رکھتے ہیں اور بباعث ایام سرمایہ دن سفر کے مناسب حال بھی ہیں۔۔۔۔جس حالت میں یہ عاجز اپنے صریح صریح اور ظاہر ظاہر الفاظ سے اشتہار میں لکھ چکا ہے کہ یہ سفر ہر یک مخلص کا طلب علم کی نیت سے ہو گا۔پھر یہ فتویٰ دینا کہ جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے کس قدر دیانت اور امانت اور انصاف اور تقویٰ اور طہارت سے دور ہے۔رہی یہ بات کہ ایک تاریخ مقررہ پر تمام بھائیوں کا جمع ہونا تو یہ صرف انتظام ہے اور انتظام سے کوئی کام کرنا اسلام میں کوئی مذموم امر اور بدعت نہیں انما الاعمال بالنیات۔بدظنی کے مادہ فاسدہ کو ذرا دور کر کے دیکھو کہ ایک تاریخ پر آنے میں کون سی بدعت ہے جبکہ ۲۷ / دسمبر کو ہر یک مخلص بآسانی ہمیں مل سکتا ہے اور اس کے ضمن میں ان کی باہم ملاقات بھی ہو جاتی ہے تو اس سہل طریق سے فائدہ اُٹھانا کیوں حرام ہے تعجب کہ مولوی صاحب نے اس عاجز کا نام مردود تو رکھ دیا مگر آپ کو وہ حدیثیں یاد نہ رہیں جن میں طلب علم کے لیے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نسبت ترغیب دی ہے اور جن میں ایک بھائی مسلمان کی ملاقات کے لیے جانا موجب خوشنودی خدائے عزوجل قرار دیا ہے اور جن میں سفر کر کے زیارتِ صالحین کرنا موجب مغفرت اور کفارہ گناہاں لکھا ہے۔۔۔۔۔مسلمانوں کو مختلف اغراض کے لیے سفر کرنے پڑتے ہیں کبھی سفر طلب علم ہی کے لیے ہوتا ہے اور کبھی۔ایک رشتہ دار یا بھائی یا بہن یا بیوی کی ملاقات کے لیے۔۔۔۔۔کبھی سفر عجائبات دنیا کے دیکھنے کے لیے بھی ہوتا ہے جس کی طرف آیت کریمہ: قُل سِيرُوا فِي الْأَرْضِ اشارت فرما رہی ہے۔کبھی سفر صادقین کی صحبت