تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 300

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۰ سورة التوبة حقیقی تو خود باطل اور الہی کتابوں کے مخالف ۔ ہاں اعجازی احیاء جس میں دنیا کی طرف رجوع کرنا اور دنیا میں پھر آباد ہونا نہیں ہوتا۔ ممکن تو ہے مگر خدائی کی دلیل نہیں کیونکہ اس کے مدعی عام ہیں مردوں سے باتیں کرا دینے والے بہت گزرے ہیں مگر یہ طریق کشف قبور کے قسم میں سے ہے۔ ہاں ہندوؤں کو عیسائیوں پر ایک فضیلت بے شک ہے۔ اس کے بلا شبہ ہم قائل ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ بندوں کو خدا بنانے میں عیسائیوں کے پیشرو ہیں۔ انہیں کے ایجاد کی عیسائیوں نے بھی پیروی کی۔ ہم کسی طرح اس بات کو چھپا نہیں سکتے کہ جو کچھ عیسائیوں نے عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے باتیں بنائی ہیں یہ باتیں انہوں نے اپنے دماغ سے نہیں نکالیں بلکہ شاستروں اور گرنتھوں میں سے چرائی ہیں یہ تمام تو وہ طوفان پہلے ہی سے برہمنوں نے کرشن اور رام چندر کے لئے بنا رکھا تھا جو عیسائیوں کے کام آیا پس یہ خیال بدیہی البطلان ہے کہ شاید ہندوؤں نے عیسائیوں کی کتابوں میں سے چرایا ہے کیونکہ ان کی یہ تحریریں اس وقت کی ہیں کہ جب حضرت عیسی کا وجود بھی دنیا میں نہیں تھا۔ پس نا چار ماننا پڑا کہ چور عیسائی ہی ہیں چنانچہ پوٹ صاحب بھی اس بات کے قائل ہیں که تثلیث افلاطون کے لئے ایک غلط خیال کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ مگر اصل یہ ہے کہ یونان اور ہند اپنے خیالات میں مرا یا متقابلہ کے طرح تھے۔ قریب قیاس یہ ہے کہ یہ شرک کے انبار پہلے ہند سے ویدو دیا کی صورت میں یونان میں گئے ۔ پھر وہاں سے نادان عیسائیوں نے چرا چرا کر انجیل پر حاشیے چڑھائے اور اپنا نامہ اعمال درست کیا۔ وو (نور القرآن، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۳۶۱ تا ۳۶۴) اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَ مَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلهَا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبُحْنَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۔ یعنی یہودیوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں کو کہ جو مخلوق اور غیر خدا ہیں اپنے رب اور قاضی الحاجات ٹھہرا رکھے ہیں۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۶۳ حاشیہ نمبر ۱۱) ملعونوں نے سچائی کا رستہ کیسا چھوڑ دیا ۔ اپنے فقیہوں اور درویشوں اور مریم کے بیٹے کو خدا ٹھہرا لیا ہے حالانکہ حکم یہ تھا کہ فقط خدائے واحد کی پرستش کرو خدا اپنی ذات میں کامل ہے۔ اس کو کچھ حاجت نہیں کہ بیٹا بنادے۔ کون سی کسر اس کی ذات میں رہ گئی تھی جو بیٹے کے وجود سے پوری ہو گئی ۔ ( براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۴ حاشیه در حاشیه نمبر (۳)