تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 299

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۹ سورة التوبة نہیں ہر یک نبی اور راستباز پر بولا گیا ہے بلکہ یعقوب نخست زادہ کہلایا ہے مگر بد قسمت انسان جب کسی پیچ میں پھنس جاتا ہے تو پھر اس سے نکل نہیں سکتا پھر عجیب تریہ کہ جو کچھ مسیح کی خدائی کے لئے قواعد بیان کئے گئے ہیں کہ وہ خدا بھی ہے انسان بھی۔یہ تمام قوعد کرشن اور رام چندر کے لیے ہندوؤں کی کتابوں میں پہلے سے موجود ہیں اور اس نئی تعلیم سے ایسے مطابق پڑے ہیں کہ ہم بجز اس کے اور کوئی بھی رائے ظاہر نہیں کر سکتے کہ یہ تمام ہندوؤں کے عقیدوں کی نقل کی گئی ہے۔ہندوؤں میں ترے مورتی کا بھی عقیدہ تھا جس سے برھما۔بشن۔مہادیو کا مجموعہ مراد ہے۔سو تثلیث ایسے عقیدے کا عکس کھینچا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ جو کچھ مسیح کے خدا بنانے کے لئے اور عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے عیسائی لوگ جوڑ توڑ کر رہے ہیں اور مسیح کی انسانیت کو خدائی کے ساتھ ایسے طور سے پیوند دے رہے ہیں جس سے ان کی غرض یہ ہے کہ کسی طرح عقلی اعتراضوں سے بچ جائیں اور پھر بھی وہ کسی طرح بیچ بھی نہیں سکتے اور آخر اسرار الہی میں داخل کر کے پیچھا چھوڑاتے ہیں بعینہ یہی نقشہ ان ہندوؤں کا ہے جو رام چندر اور کرشن کو ایشر قرار دیتے ہیں یعنی وہ بھی بعینہ وہی باتیں سناتے ہیں جو عیسائی سنایا کرتے ہیں اور جب ہر ایک پہلو سے عاجز آ جاتے ہیں۔تب کہتے ہیں کہ یہ ایک ایشر کا بھید ہے اور انہیں پر کھلتا ہے جو جوگ کماتے اور دنیا کو تیا گتے اور تمہیا کرتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ بھید تو اسی وقت کھل گیا جبکہ ان جھوٹے خداؤں نے اپنی خدائی کا کوئی ایسا نمونہ نہ دکھلایا جو انسان نے نہ دکھلایا ہو۔سچ ہے کہ گرنتھوں میں یہ قصے بھرے پڑے ہیں کہ ان اوتاروں نے بڑی بڑی شکتی کے کام کئے ہیں مردے جلائے اور پہاڑوں کو سر پر اٹھالیا۔لیکن اگر ہم ان کہانیوں کو سچ مان لیں تو یہ لوگ خود قائل ہیں کہ بعض ایسے لوگوں نے بھی کرشمے دکھلائے جنہوں نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔مثلاً ذرہ سوچ کر دیکھ لو کہ کیا مسیح کے کام موسیٰ کے کاموں سے بڑھ کر تھے بلکہ مسیح کے نشانوں کو تو تالاب کے قصہ نے خاک میں ملا دیا۔کیا آپ لوگ معجزہ نما تالاب سے واقف نہیں جو اسی زمانہ میں تھا اور کیا اسرائیل میں ایسے نبی نہیں گزرے جن کے بدن کے چھونے سے مردے زندہ ہوئے پھر خدائی کی شیخی مارنے کے لئے کون سی وجوہات ہیں جائے شرم !!! اور اگر چہ ہندوؤں نے اپنے اوتاروں کی نسبت شکتی کے کام بہت لکھے ہیں اور خواہ نخواہ ان کو پرمیشر ثابت کرنا چاہا ہے مگر وہ قصے بھی عیسائیوں کے بے ہودہ قصوں سے کچھ کم نہیں ہیں اور اگر فرض بھی کریں کہ کچھ ان میں سے صحیح بھی ہے۔تب بھی عاجز انسان جو ضعف اور نا توانی کا خمیر رکھتا ہے۔پر میشر نہیں ہو سکتا اور احیاء