تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 293

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۳ سورة التوبة جنگ اور مقابلے کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر دفاعی رنگ میں حفاظت جان و مال کی غرض سے تھے اور کوئی بھی حرکت مسلمانوں کی طرف سے ایسی سرزد نہیں ہوئی جس کا ارتکاب اور ابتداء پہلے کفار کی طرف سے نہ ہوا ہو۔بلکہ بعض قابل نفریں حرکات کا مقابلہ بتقاضائے وسعت اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ا عمد ا ترک کرنے کا حکم دے دیا تھا مثلاً کفار میں ایک سخت قابل نفرت رسم تھی جو کہ وہ مسلمان مردوں سے کیا کرتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیح فعل سے مسلمانوں کو قطعا روک دیا۔قرآن شریف میں بڑی بسط اور تفصیل سے اس امر کا ذکر موجود ہے مگر کوئی غور کرنے والا اور بے تعصب دل سچائی اور حق کی پیاس بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔قرآن شریف میں صاف طور سے اس امر کا ذکر آ گیا ہے۔هُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ یعنی ہر ایک شرارت اور فساد کا ابتداء پہلے کفار کی طرف سے ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اب جائے غور ہے کہ قرآن شریف نے جن اضطراری حالتوں میں جنگ کرنے کی اجازت دی ہے ان میں سے آج اس زمانہ میں کوئی بھی حالت موجود ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی جبر و تشدد کسی دینی معاملہ میں ہم پر نہیں کیا جا تا بلکہ ہر ایک کو پوری مذہبی آزادی دی گئی ہے۔اب نہ کوئی جنگ کرتا ہے کسی دینی غرض کے لیے اور نہ ہی لونڈی غلام کوئی بناتا ہے نہ کوئی نماز روزے اذان حج اور ارکان اسلام کی ادائیگی سے روکتا ہے تو پھر جہاد کیسا اور لونڈی غلام کیسے؟ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۸) اگر یہ مشرک توڑیں قسمیں اپنی بعد عہد کرنے کے اور تمہارے دین میں طعن کریں تو تم کفر کے سرداروں سے لڑو کیونکہ وہ اپنی قسموں پر قائم نہیں رہے تا کہ وہ باز آجا ئیں کیا تم ایسے لوگوں سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسول کو نکال دینے کا قصد کیا اور اُنہوں نے ہی اول ایذاء اور قتل کے لئے اقدام کیا۔اب تمام ان آیات پر نظر غور ڈال کر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس مقام سے جبر کو کچھ بھی تعلق نہیں بلکہ مشرکین عرب نے اپنے ایذاء اور خونریزیوں کو یہاں تک پہنچا کر اپنے تئیں اس لائق کر دیا تھا کہ جیسا کہ اُنہوں نے مسلمانوں کے مردوں کو قتل کیا اور اُن کی عورتوں کو سخت بے رحمی سے مارا اور اُن کے بچوں کو قتل کیا۔وہ اس لائق ٹھہر گئے تھے کہ حضرت موسیٰ کے قانون جہاد کے موافق اُن کی عورتیں بھی قتل کی جائیں اُن کے بچے بھی قتل کئے جائیں اور اُن کے جوان و بڈھے سب تہ تیغ کئے جاویں اور ان کو اپنے وطنوں سے جلا وطن کر کے اُن کے شہروں اور دیہات کو چھونکا جائے۔لیکن ہمارے نبی صلعم نے ایسانہ کیا بلکہ ہر طرح سے اُن کو رعایت دی یہاں تک کہ باوجود اُن کے واجب القتل ہونے کے جو اپنی