تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 281
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۱ سورة الانفال لا b كداب الِ فِرْعَوْنَ وَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَفَرُوا بِأَيْتِ اللهِ فَأَخَذَهُمُ اللهُ بِذُنُوبِهِمُ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ جیسے فرعون کے خاندان اور اس سے پہلے کافروں کا حال ہوا کہ جب انہوں نے خدا کے نشانوں سے انکار کرنا اختیار کیا تو خدا نے ان سے ان کے گناہوں کا مواخذہ کیا اور بہ تحقیق خدا بڑا طاقت والا اور سزا دینے ( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۳) میں سخت ہے۔وَإِمَّا تَخَافَنَ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِلْ اِلَيْهِمُ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنين (۵۹) خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) وَاعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُمُ مِنْ قُوَّةٍ وَ مِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِه b عدو اللهِ وَعَدُوَّكُمْ وَأَخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمْ اللهُ يَعْلَمُهُمْ وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ) واعد والَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُم مِن قوة یعنی دینی دشمنوں کیلئے ہر یک قسم کی طیاری جو کر سکتے ہو کرو اور اعلاء کلمہ اسلام کیلئے جو قوت لگا سکتے ہو لگاؤ۔اب دیکھو کہ یہ آیت کریمہ کس قدر بلند آواز سے ہدایت فرما رہی ہے کہ جو تدبیریں خدمت اسلام کیلئے کارگر ہوں سب بجا لاؤ اور تمام قوت اپنے فکر کی اپنے بازو کی اپنی مالی طاقت کی اپنے احسن انتظام کی اپنی تدبیر شائستہ کی اس راہ میں خرچ کرو تا تم فتح پاؤ۔اب نادان اور اندھے اور دشمن دین مولوی اس صرف قوت اور حکمت عملی کا نام بدعت رکھتے ہیں۔اس وقت کے یہ لوگ عالم کہلاتے ہیں جن کو قرآن کریم کی ہی خبر نہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔اس آیت موصوفہ بالا پر غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ برطبق حدیث نبوی که انما الاحتمال