تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 276
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۶ سورة الانفال باندھتے تھے اور مکر کر رہے تھے اور خدا بھی مکر کر رہا تھا اور خدا سب مکر کرنے والوں سے بہتر ہے۔ براہین احمد به احمد یہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۷ حاشیہ نمبر ۱۱) اور اے پیغمبر ! وہ وقت یاد کر جب کا فرلوگ تجھ پر داؤ چلانا چاہتے تھے تا کہ تجھے گرفتار کر رکھیں یا تجھے مار ڈالیں اور یا تجھے جلا وطن کر دیں اور حال یہ تھا کہ کافر تو قتل کے لیے اپنا داؤ کر رہے تھے اور خدا ان کو مغلوب کرنے کے لیے اپنا داؤ کر رہا تھا اور خدا سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے جس کے داؤ میں سراسر مخلوق کی بھلائی ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۵،۲۳۴) خَيْرُ الْمَكِرِينَ یعنی ایسا مکر کرنے والا جس میں کوئی شر نہیں ۔ (چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲) واضح رہے کہ اسلام کی لڑائیاں ایسے طور سے نہیں ہوئیں کہ جیسے ایک زبردست بادشاہ کمزور لوگوں پر چڑھائی کر کے ان کو قتل کر ڈالتا ہے بلکہ صحیح نقشہ ان لڑائیوں کا یہ ہے کہ جب ایک مدت دراز تک خدا تعالیٰ کا ان کر ہے بلکہ پاک نبی اور اس کے پیر ومخالفوں کے ہاتھ سے دکھ اٹھاتے رہے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور کئی برے برے عذابوں سے مارے گئے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم کے قتل کرنے کے لئے منصوبہ کیا گیا اور یہ تمام کامیابیاں ان کے بتوں کے معبود برحق ہونے پر حمل کی گئیں اور ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلعم کو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لئے آئے تو اس وقت ان کے حملہ کے روکنے کے لئے اور نیز ان لوگوں کو امن میں لانے کے لئے جو اُن کے ہاتھ میں قیدیوں کی طرح تھے اور نیز اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ ان کے معبود جن کی تائید پر یہ سابقہ کامیابیاں حمل کی گئی ہیں لڑائیاں کرنے کا حکم ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَ يَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ - (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۴۴) وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ أَيْتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ) لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کی مانند کہہ دیں۔ ( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۴۰)