تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 268
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ سورة الاعراف خطاب ہوا۔خود اس انسانِ کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں، بد زبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا؟ ان کے لیے دعا کی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح وسلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۹۹) وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قَالُوا لَو لَا اجْتَبَيْتَهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا اتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيَّ مِنْ رَبِّي هَذَا بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ اور جس دن تو ان کو کوئی آیت نہیں سناتا اس دن کہتے ہیں کہ آج تو نے کوئی آیت کیوں نہ گھڑی؟ ان کو کہہ کہ میں تو اسی کلام کی پیروی کرتا ہوں کہ جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر نازل ہو رہا ہے اپنے دل سے گھڑ لینا میرا کام نہیں اور نہ یہ ایسی باتیں ہیں کہ جن کو انسان اپنے افتراء سے گھڑ سکے۔یہ تو میرے رب کی طرف سے بصائر ہیں یعنی اپنے منجانب اللہ ہونے پر آپ ہی روشن دلیلیں ہیں اور ایمانداروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔برائین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۷،۲۵۶ حاشیہ نمبر ۱۱)