تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 267

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الاعراف والوں کے ساتھ پیار کرتا آیا ہے اپنی محبت کو اس پر اتارتا ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا نہیں پہچانتی اور نہ سمجھ سکتی ہے اور ہزاروں صدیقوں اور برگزیدوں کا اسی لئے خون ہوا کہ دنیا نے ان کو نہیں پہچانا۔وہ اسی لئے مکار اور خود غرض کہلائے کہ دنیا ان کے نورانی چہرہ کو دیکھ نہ سکی جیسا کہ فرماتا ہے : ينظرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ یعنی وہ جو منکر ہیں تیری طرف دیکھتے تو ہیں مگر تو انہیں نظر نہیں آتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۴) تیری طرف وہ دیکھتے ہیں مگر تو انہیں دکھائی نہیں دیتا آخر وہ سب اندھے ہلاک ہو گئے۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۲۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے مراتب معلوم تھے اور ہر ایک کی نورانیت باطنی کا اندازہ اس قلب منور پر مکشوف تھا۔ہاں! جو لوگ بیگا نہ ہیں وہ یگانہ حضرت احدیت کو شناخت نہیں کر سکتے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ یعنی وہ تیری طرف (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) نظر اُٹھا کر دیکھتے ہیں۔پر تو انہیں نظر نہیں آتا اور وہ تیری صورت کو دیکھ نہیں سکتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انوار روحانی کا سخت چمکا را بیگانہ بعض پر جا پڑتا ہے۔جیسے ایک عیسائی نے جبکہ مباہلہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حسنین و حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہم عیسائیوں کے سامنے آئے۔دیکھ کر اپنے بھائیوں کو کہا کہ مباہلہ مت کرو۔مجھ کو پروردگار کی قسم ہے کہ میں ایسے منہ دیکھ رہا ہوں کہ اگر اس پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ جا تو فی الفور اُٹھ جائے گا۔سوخدا جانے کہ اس وقت نور نبوت و ولایت کیسا جلال میں تھا کہ اس کافر، بد باطن، سیاہ دل کو بھی نظر آ گیا۔الحکم جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخه ۲۴ جولائی ۱۸۹۹ ء صفحه ۴) خُذِ الْعَفْوَ وَامُرُ بِالْعُرْفِ وَاعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ مجھے ایک حکایت یاد آئی جو سعدی نے بوستان میں لکھی ہے کہ ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا۔گھر آیا تو گھر والوں نے دیکھا کہ اسے کتے نے کاٹ کھایا ہے۔ایک بھولی بھالی چھوٹی لڑکی بھی تھی۔وہ بولی آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا ؟ اس نے جواب دیا۔بیٹی انسان سے کت پن نہیں ہوتا اسی طرح سے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔نہیں تو وہی کت پین کی مثال صادق آئے گی خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں، بہت بری طرح ستایا گیا مگر ان کو أَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ کا ہی