تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 260

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۰ سورة الاعراف اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايْتِهِ يُؤْمِنُونَ (الجاثية : ۷) یعنی تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے؟ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اور یقینی فیصلہ دیوے یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور سے شک باقی نہ رہ جاوے اور منشاء اچھی طرح سے کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جوصریح اس کے مخالف پڑی ہو مومن کا کام نہیں ہے۔پھر فرماتا ہے : فَيَايَ حَدِيثٍ بَعْدَ ذَ يُؤْمِنُونَ ان دونوں آیتوں کے ایک ہی معنی ہیں اس لئے اس جگہ تصریح کی ضرورت نہیں۔سو آیات متذکرہ بالا کے رو سے ہر ایک مومن کا یہ ہی مذہب ہونا یا چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو بلا شرط اور حدیث کو شر طی طور پر حجت شرعی قرار دیوے اور یہی میرا مذہب ہے۔۔۔۔۔۔۔جوا مر قول یا فعل یا تقریر کے طور پر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ہم اس امر کو بھی اسی محک سے آزمائیں گے اور دیکھیں گے کہ حسب آیہ شریفہ : قباي حَدِيثٍ بَعْدَ ذَايُؤْمِنُونَ وه حديث قولی یا فعلی قرآن کریم کی کسی صریح اور بین آیت سے مخالف تو نہیں۔اگر مخالف نہیں ہوگی تو ہم بسر و چشم اس کو قبول کریں گے اور اگر بظاہر مخالف نظر آئے گی تو ہم حتی الوسع اس کی تطبیق اور توفیق کیلئے کوشش کریں گے اور اگر ہم باوجود پوری پوری کوشش کے اس امر تطبیق میں ناکام رہیں گے اور صاف صاف کھلے طور پر ہمیں مخالف معلوم ہوگی تو ہم افسوس کے ساتھ اس حدیث کو ترک کر دیں گے کیونکہ حدیث کا پایہ قرآن کریم کے پایہ اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔قرآن کریم وحی متلو ہے اور اس کے جمع کرنے اور محفوظ رکھنے میں وہ اہتمام بلیغ کیا گیا ہے کہ احادیث کے اہتمام کو اس سے کچھ بھی نسبت نہیں۔اکثر احادیث غایت درجہ مفید ظن ہیں اور ظنی نتیجہ کی منتج ہیں اور اگر کوئی حدیث تو اتر کے درجہ پر بھی ہوتا ہم قرآن کریم کے تواتر سے اس کو ہرگز مساوات نہیں۔الحق مباحثہ لدھیانه، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۲، ۱۳) ہمارا ضرور یہ مذہب ہونا چاہئے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں تا ہمیں معلوم ہو کہ وہ واقعی طور پر اسی مشکوۃ وحی سے نور حاصل کر نیوالے ہیں جس سے قرآن نکلا ہے یا اس کے الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۲) مخالف ہیں۔بعد اللہ جل شانہ کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے؟ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف ترغیب ہے کہ ہر ایک قول اور حدیث کتاب اللہ پر عرض کر لینا چاہئے۔اگر کتاب اللہ نے ایک امر کی نسبت ایک فیصلہ ناطق اور مؤید دے دیا ہے جو قابل تغییر اور تبدیل نہیں تو پھر ایسی حدیث دائرہ صحت سے خارج ہوگی