تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 256

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ الَّذِينَ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ۔سورة الاعراف ابتدائی رؤیا یا الہام کے ذریعہ سے خدا بندہ کو بلانا چاہتا ہے مگر وہ اس کے واسطے کوئی حالت قابل تشقی نہیں ہوتی چنانچہ بلغم کو الہامات ہوتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ کوشتنا لرفعنه ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رفع نہیں ہوا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ کوئی برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ ابھی تک نہیں بنا تھا۔یہاں تک کہ وہ گر گیا۔ان الہامات وغیرہ سے انسان کچھ بن نہیں سکتا۔انسان خدا کا بن نہیں سکتا جب تک کہ ہزاروں موتیں اس پر نہ آویں اور ہیضہ و بشریت سے وہ نکل نہ آئے۔احکام جلد ۵ نمبر ۱۶ مورخه ۱۷۳۰ پریل ۱۹۰۱ صفحه ۱۴) نجات کامل خدا ہی کی طرف مرفوع ہو کر ہوتی ہے اور جس کا رفع نہ ہو وہ : اخْلَد إِلَى الْأَرْضِ ہو جاتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۷ار فروری ۱۹۰۱، صفحہ ۷) ملے وَ لَقَد ذَرَ أنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ لَهُم قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمُ اعْيُنَ لا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانُ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَبِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَبِكَ هُمُ الْغَفِلُونَ۔انسان اگر اللہ تعالیٰ کے لئے زندگی وقف نہیں کرتا تو وہ یا درکھے کہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا کیا ہے۔اس آیت سے یہ صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ بعض خام خیال کو تاہ فہم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہر ایک آدمی کو جہنم میں ضرور جانا ہوگا۔یہ غلط ہے۔ہاں ! اس میں شک نہیں کہ تھوڑے ہیں جو جہنم کی سزا سے بالکل محفوظ ہیں اور یہ تعجب کی بات نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے : قَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشكور (سبا: ۱۴) - اب سمجھنا چاہیے کہ جہنم کیا چیز ہے؟ ایک جہنم تو وہ ہے جس کا مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے اور دوسرے یہ زندگی بھی اگر خدا تعالی کے لیے نہ ہو تو جہنم ہی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے انسان کا تکلیف سے بچانے اور آرام دینے کے لیے متولی نہیں ہوتا۔یہ خیال مت کرو کہ کوئی ظاہری دولت یا حکومت یا مال و عزت اولاد کی کثرت کسی شخص کے لیے کوئی راحت یا اطمینان اور سکینت کا موجب ہو جاتی ہے اور وہ دم نقد بہشت میں