تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 256
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ سورة الاعراف الَّذِينَ كَذَّبُوا بِايْتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ۔ ابتدائی رؤیا یا الہام کے ذریعہ سے خدا بندہ کو بلا نا چاہتا ہے مگر وہ اس کے واسطے کوئی حالت قابل تشفی نہیں ہوتی چنانچہ بلغم کو الہامات ہوتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعنه ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رفع نہیں ہوا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ کوئی برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ ابھی تک نہیں بنا تھا۔ یہاں تک کہ وہ گر گیا۔ ان الہامات وغیرہ سے انسان کچھ بن نہیں سکتا۔ انسان خدا کا بن نہیں سکتا جب تک کہ ہزاروں موتیں اس پر نہ آویں اور بیضہء بشریت سے وہ نکل نہ آئے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۱ء صفحه (۱۴) نجات کامل خدا ہی کی طرف مرفوع ہو کر ہوتی ہے اور جس کا رفع نہ ہو وہ : اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ ہو جاتا ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۱۷ رفروری ۱۹۰۱ صفحه ۷ ) وَ لَقَدْ ذَرَانَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَفِلُونَ انسان اگر اللہ تعالیٰ کے لئے زندگی وقف نہیں کرتا تو وہ یادرکھے کہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا کیا ہے۔ اس آیت سے یہ صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ بعض خام خیال کو تاہ فہم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہر ایک آدمی کو جہنم میں ضرور جانا ہوگا ۔ یہ غلط ہے۔ ہاں ! اس میں شک نہیں کہ تھوڑے ہیں جو جہنم کی سزا سے بالکل محفوظ ہیں اور یہ تعجب کی بات نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: قَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشكور (سبا: ۱۴) ۔ اب سمجھنا چاہیے کہ جہنم کیا چیز ہے؟ ایک جہنم تو وہ ہے جس کا مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے اور دوسرے یہ زندگی بھی اگر خدا تعالیٰ کے لیے نہ ہو تو جہنم ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے انسان کا تکلیف سے بچانے اور آرام دینے کے لیے متولی نہیں ہوتا۔ یہ خیال مت کرو کہ کوئی ظاہری دولت یا حکومت یا مال و عزت اولاد کی کثرت کسی شخص کے لیے کوئی راحت یا اطمینان اور سکینت کا موجب ہو جاتی ہے اور وہ دم نقد بہشت میں